Alina Amir Viral Video Scandal: Tiktoker Urges CM Maryam Nawaz for Action Against Deepfakes

Alina Amir Viral Video Scandal: Tiktoker Urges CM Maryam Nawaz for Action Against Deepfakes

مشہور پاکستانی ٹک ٹاکر علینہ عامر (alina amir)نے اپنے نام سے منسوب حالیہ سوشل میڈیا تنازع پر خاموشی توڑتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون، پاکستان ٹوڈے اور نیوز ایکس کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، علینہ عامر نے واضح کیا ہے کہ انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی  علینہ وائرل ویڈیو (alina viral video)  دراصل ایک مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ 'ڈیپ فیک' ویڈیو ہے جس کا مقصد ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔ انہوں نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (FIA) کے سائبر کرائم ونگ سے بھی رابطہ کیا ہے تاکہ اس غیر اخلاقی ٹرینڈ کے پیچھے چھپے عناصر کو بے نقاب کیا جا سکے۔

Tiktoker Alina Amir breaks silence on the fake viral video trend. Read her plea to CM Maryam Nawaz and how AI deepfakes are targeting influencers

ایکسپریس ٹریبیون (Express Tribune) کی رپورٹ کے مطابق، علینہ وائرل ویڈیو (alina viral video)  نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ وہ خواتین کی عزت کو اچھالنے والے سائبر گروہوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ علینہ وائرل ویڈیو (alina viral video)  کے نام پر جو کچھ پھیلایا جا رہا ہے وہ سراسر جھوٹ ہے۔ پاکستان ٹوڈے (Pakistan Today) کے مطابق، علینہ نے اپنے مداحوں سے درخواست کی ہے کہ وہ ایسی ویڈیوز کو آگے شیئر نہ کریں، کیونکہ یہ کسی کی زندگی اور عزت کی بربادی کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ آج کل ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال مثبت کاموں کے بجائے منفی پروپیگنڈے کے لیے کیا جا رہا ہے۔


نیوز ایکس (NewsX) کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں حالیہ ہفتوں میں فاطمہ جتوئی اور عمیر 711 کے بعد اب علینہ وائرل ویڈیو (alina viral video)   کا ٹرینڈ ابھرا ہے، جو کہ ایک منظم سائبر حملے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات اور سماجی کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے رجحانات معاشرے میں اخلاقی بگاڑ کا سبب بن رہے ہیں۔ نیوز ایکس کے مطابق، یہ ویڈیوز اکثر نائٹ کلبوں یا پرانی غیر متعلقہ کلپس کو اے آئی (AI) ٹولز کے ذریعے تبدیل کر کے بنائی جاتی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ 'کلکس' اور 'ویوز' حاصل کیے جا سکیں۔


پاکستان ٹوڈے (Pakistan Today) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایف آئی اے (FIA) نے اس معاملے پر تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ان آئی پی ایڈریسز (IP Addresses) کا سراغ لگایا جا رہا ہے جہاں سے یہ مواد اپ لوڈ کیا گیا۔علینہ وائرل ویڈیو (alina viral video)  کا کہنا ہے کہ وہ تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گی جب تک ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والے جیل کے پیچھے نہیں پہنچ جاتے۔ ایکسپریس ٹریبیون (Express Tribune) کے مطابق، مریم نواز کی انتظامیہ نے پہلے ہی خواتین کے خلاف ڈیجیٹل ہراسانی کے حوالے سے 'زیرو ٹالرنس' پالیسی کا اعلان کر رکھا ہے، اور توقع ہے کہ علینہ وائرل ویڈیو (alina viral video)  کے معاملے میں بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔


علینہ وائرل ویڈیو (alina viral video)   کا یہ معاملہ پاکستان میں بڑھتے ہوئے سائبر کرائمز کی ایک سنگین مثال ہے۔ نیوز ایکس (NewsX) کی رپورٹ کے مطابق، ڈیپ فیک ٹیکنالوجی اب عوامی شخصیات کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ علینہ وائرل ویڈیو (alina viral video)  کا سچ سامنے آنے کے بعد اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سوشل میڈیا صارفین ذمہ داری کا ثبوت دیں۔ ایکسپریس ٹریبیون (Express Tribune) اور پاکستان ٹوڈے (Pakistan Today) کے مطابق، حکومتی مداخلت اور سخت قوانین ہی مستقبل میں ایسی مہمات کو روکنے کا واحد راستہ ہیں۔