بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں حکام نے ایک
بار پھر آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق کو آج سری نگر
میں ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کر دیا۔
ان کے گھریلو حراست کا مقصد انہیں جمعہ کے خطبے دینے اور تاریخی
جامع مسجد سری نگر میں اجتماعی نماز پڑھانے سے روکنا تھا۔ دریں اثناء جامع مسجد سری نگر کی انجمن اوقاف نے
اپنے بیان میں میر واعظ عمر فاروق کی گھریلو حراست پر گہری مایوسی اور افسوس کا
اظہار کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ حکام کا یہ خودسرانہ اور بے جا اقدام اس
وقت کیا گیا ہے جب رمضان المبارک کا مقدس مہینہ جاری ہے۔
دوسری طرف، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا
کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) جان بوجھ کر فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھا رہی ہے
تاکہ عوامی مسائل سے توجہ ہٹائی جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے سری نگر میں صحافیوں سے
بات کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے معاشرتی
تفریق اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے پر عمل پیرا ہے۔
آل پارٹیز حریت کانفرنس نے بھی بھارتی افواج کی جانب سے مقبوضہ
جموں و کشمیر میں کشمیری نوجوانوں کے خلاف شروع کی گئی تازہ گرفتاریوں کی سخت مذمت
کی۔ آل
پارٹیز حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سری نگر میں اپنے بیان
میں کہا کہ بھارتی افواج کے مسلسل سرچ آپریشنز اور کالا قانون کے تحت گرفتاریاں
کشمیریوں کے لیے ایک وجودی خطرہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی
تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم و ستم اور جاری سیاسی
ناانصافیوں پر جوابدہ ٹھہرانے کے لیے اقدامات کریں۔
آل پارٹیز حریت کانفرنس کے ترجمان نے راجوری اور کلگام کے
واقعات میں ستائیس شہریوں کے قتل کی بین الاقوامی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔