Major Pramod and Sarhad University case

Major Pramod and Sarhad University case

سرحد کے قریب ایک چھوٹا سا شہر تھا۔ شہر کے بالکل ساتھ سرحد یونیورسٹی (Sarhad University)واقع تھی۔ یہاں ملک بھر سے بچے تعلیم حاصل کرنے آتے تھے۔ یونیورسٹی کا ماحول آزاد تھا، لیکن پچھلے کچھ مہینوں سے یہاں اور فوج کے درمیان تلخی بڑھتی جا رہی تھی۔ ایک دن یونیورسٹی میں ایک واقعہ پیش آیا جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔

ispr sarhad university peshawar dg ispr sarhad university sarhad uni sarhad university incident sarhad university islamabad sarhad university islamabad incident sarhad university islamabad campus

 یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کے شوہر، جو خود بھی فوج میں تھے، یونیورسٹی آئے۔ وہ اپنی بیوی سے ملنے آئے تھے۔ یونیورسٹی کا دروازہ بند تھا۔ سیکیورٹی نے انہیں روک دیا۔ بات بڑھی تو کچھ طلبہ جمع ہو گئے۔ نعرے بازی شروع ہو گئی۔ 

کسی نے کہا "فوجی یہاں کیا کر رہا ہے؟" کسی نے کہا "یہ ہماری آزادی میں مداخلت ہے"۔ ماحول گرم ہو گیا۔ اچانک ایک لڑکے نے اس فوجی کی بیوی کی طرف نازیبا جملہ کہا اور ہاتھ بڑھانے کی کوش کی۔ فوجی ٹرینڈ تھا۔ 

اس نے فوراً اپنی بیوی کو پیچھے کیا اور ہوا میں فائرنگ کر دی۔ کسی کو گولی نہیں لگی، لیکن خوف و ہراس پھیل گیا۔ اگلے ہی دن میڈیا پر طوفان آ گیا۔ ایک طرف نیوز چینلز چیخ رہے تھے "فوجی نے یونیورسٹی میں فائرنگ کی"۔

دوسری طرف سوشل میڈیا پر عوام یونیورسٹی کے حق میں نکل آئے۔ "ہماری یونیورسٹی محفوظ نہیں" "طلبہ کا استحصال بند کرو"۔ 

 فوج کہہ رہی تھی "ہمارے جوان پر حملہ ہوا، اس نے دفاع میں فائر کیا"۔

 یونیورسٹی کہہ رہی تھی "ہمارے کیمپس میں بندوق لانا جرم ہے"۔ بیچ میں نفرت کی دیوار کھڑی ہوتی جا رہی تھی۔

 ایسے نازک وقت میں یہ کیس دیا گیا میجر پرمود کو۔ میجر پرمود وہی جس نے اپنے فاسٹ ایکشن سے ملک و قوم کے لئے بہت سے مشنز سرانجام دیئے تھے اور یہ کیس اس کی طبیعت کے برخلاف تھا کیونکہ میجر بات کرنے سے پہلے گولی کا قائل تھا مگر یہ کیس اس کے لئے ملک و قوم کے لئے تھا اور اس میں اسے الگ سے کام کرنا پڑنا تھا گو اس کا انداز سب سے الگ تھا۔ وہ بات کم اور کام زیادہ کرتا تھا۔ اس نے اب تک جتنے بھی مشن کیے، سب فوری اور ذہانت سے مکمل کیے۔ اسے "فاسٹ ایکشن میجر" بھی کہتے تھے۔


 میجر پرمود کو جب فائل ملی تو اس نے سب سے پہلے ایک بات کہی: "اس جنگ میں نہ فوج جیتے گی نہ یونیورسٹی۔ جیتے گا صرف انتشار۔ اور میں اسے ختم کرنے آیا ہوں۔" 

دونوں طرف جانا میجر پرمود سب سے پہلے یونیورسٹی گیا۔ وہاں اس نے وائس چانسلر سے ملاقات کی۔ وائس چانسلر غصے میں تھے۔ بولے "آپ لوگ ہمارے کیمپس کو فوجی چھاؤنی سمجھتے ہیں کیا؟" 

 میجر پرمود نے نرمی سے جواب دیا: "سر، میں یہاں لڑنے نہیں آیا۔ میں یہاں سمجھنے آیا ہوں۔ بتائیں کیا ہوا؟" وائس چانسلر نے ساری بات بتائی۔ طلبہ کا غصہ، خوف، اور یہ کہ یونیورسٹی کو سیاست کا میدان نہ بنایا جائے۔ پھر میجر پرمود اس فوجی کرنل سے ملا جس نے فائرنگ کی تھی۔ کرنل ابھی بھی غصے میں تھا۔ "میری بیوی کی عزت پر بات آئی تھی۔ میں کیا کرتا؟" 

 میجر پرمود نے کرنل کا کندھا تھپتھپایا اور کہا: "آپ بہادر ہیں۔ آپ نے ہوا میں فائر کر کے جان بچائی۔ یہی ٹریننگ ہے۔ لیکن سر، یونیورسٹی میں یونیفارم میں جانا اور پھر ایسا ماحول بن جانا... کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ پہلے انتظامیہ کو اطلاع دیتے؟ ہم دونوں کو صبر کا دامن تھامنا ہوگا۔ ورنہ یہ چنگاری پورے ملک کو جلا دے گی۔" کرنل خاموش ہو گیا۔ 


نفرت کی جڑ ختم کرنا میجر پرمود نے 3 دن تک یونیورسٹی میں گزارے۔ وہ کلاسوں میں بیٹھا۔ طلبہ سے بات کی۔ اس نے پوچھا "آپ کو فوج سے مسئلہ ہے یا نظام سے؟" 

 زیادہ تر طلبہ نے کہا "ہمیں عزت چاہیے۔ ہمیں سنا جائے"۔ پھر وہ بیرکس گیا۔ جوانوں سے ملا۔ پوچھا "آپ کو عوام سے مسئلہ ہے؟" جواب تھا "ہمیں عزت چاہیے۔ ہم ملک کے لیے جان دیتے ہیں"۔ میجر پرمود سمجھ گیا۔ مسئلہ بندوق کا نہیں تھا۔ مسئلہ برداشت کا تھا۔ دونوں طرف غلط فہمی تھی۔


 اس نے ایک میٹنگ بلائی۔ ایک طرف یونیورسٹی کے 10 نمائندہ طلبہ، دوسری طرف فوج کے 10 جوان۔ میجر پرمود بیچ میں کھڑا تھا۔ 

 اس نے کہا: "آج کوئی تقریر نہیں ہوگی۔ آج ہم صرف ایک دوسرے کی بات سنیں گے۔ بغیر روکے۔" 

 2 گھنٹے تک کمرے میں صرف بات ہوتی رہی۔ آنسو بھی بہے۔ غصہ بھی نکلا۔ 

آخر میں ایک طالب علم اٹھا اور بولا "سر، ہمیں نہیں پتہ تھا کہ آپ رات کو سرحد پر جاگتے ہیں"۔ 

 ایک جوان بولا "ہمیں نہیں پتہ تھا کہ آپ امتحان کے دنوں میں کتنا پریشر لیتے ہیں"۔ دیوار گرنے لگی تھی۔ 


نظام اور میڈیا میجر پرمود نے رپورٹ میں 3 بڑی سفارشات دیں: 

 1. یونیورسٹی میں تربیت: طلبہ کو "برداشت اور مکالمہ" کی کلاسیں لازمی ہوں۔ انہیں سکھایا جائے کہ اختلاف رائے کا مطلب دشمنی نہیں۔ 

2. فوج کا پروٹوکول: کوئی بھی فوجی بغیر اطلاع کیمپس میں داخل نہ ہو۔ اگر جانا ہو تو سول کپڑوں میں اور انتظامیہ کے ساتھ۔ 

3. میڈیا کا کردار: میجر پرمود نے بڑے نیوز چینلز کے مالکان کو بلایا۔ کہا "آپ آگ لگا رہے ہیں یا بجھا رہے ہیں؟ ایک دن کی TRP کے لیے 80سال کی دوستی خراب نہ کریں۔" اس کے بعد میڈیا نے متوازن رپورٹنگ شروع کر دی۔ 


15 دن بعد سرحد یونیورسٹی (Sarhad University)میں ایک پروگرام ہوا۔ "امن اور مکالمہ کا دن"۔ اسٹیج پر ایک طرف وائس چانسلر تھے، دوسری طرف وہی کرنل۔ بیچ میں میجر پرمود۔ کرنل نے مائیک پکڑا اور کہا: "میں معافی مانگتا ہوں اگر میری موجودگی سے کسی کو تکلیف پہنچی۔" وائس چانسلر نے کہا: "اور ہم معافی مانگتے ہیں اگر ہمارے طلبہ کے رویے سے کسی کی دل آزاری ہوئی۔" 


 پورے ہال میں تالیاں گونجیں۔ میجر پرمود نے آخر میں صرف اتنا کہا: "ملک تب ہی مضبوط ہوتا ہے جب یونیورسٹی میں کتاب اور بیرک میں بندوق ایک دوسرے کے دشمن نہ بنیں، بلکہ ایک دوسرے کے محافظ بنیں۔ نفرت سے سرحدیں محفوظ نہیں ہوتیں۔ برداشت سے ہوتی ہیں۔" اس دن کے بعد سرحد یونیورسٹی کیس بند ہو گیا۔ نہ کوئی مقدمہ، نہ کوئی ہڑتال۔ اور میجر پرمود؟ وہ خاموشی سے اگلے مشن پر نکل گیا۔ کیونکہ اس کا کام تھا فوری ایکشن۔ اور اس بار اس نے بندوق سے نہیں، بات سے جنگ جیت لی تھی۔

ختم شد

یہ کہانی فرضی ہے مطابقت محض اتفاقیہ ہوسکتی ہے