Ummro Ayyar aur Shahzadi Pari - Urdu Kids Stories

Ummro Ayyar aur Shahzadi Pari - Urdu Kids Stories

عمرو اور شہزادی پری

سردار امیر حمزہ کا دربار لگا ہوا تھا ۔ عمر و عیار بھی دربار میں اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھا ہوا تھا ۔ دربار میں فریادی پیش ہو رہے تھے اور سردار امیر حمزہ ان کی فریادیں سن کر موقع پر ہی فیصلے کر رہے تھے کہ اچانک ایک بوڑھا آدمی فریادی کے طور پر پیش ہوا وہ زار و قطار رو رہا تھا ۔ روتے روتے اس کی ہچکیاں بندھ رہی تھیں اور وہ بات بھی نہ کر . نہ کر پا رہا تھا ۔
Ummro Ayyar aur Shahzadi Pari by Mazhar kaleem ma, - Urdu Kids Stories
کیا ہوا بزرگوار ۔ تمہیں کس نے ستایا ہے ۔ مجھے بتاؤ ۔ سردار امیر حمزہ نے تخت سے نیچے اتر کر بوڑھے کے شانے پر تھپکی دیتے ہوئے کہا ۔ " سردار - آپ کے درباری نے مجھ پر بے حد ظلم کیا ہے ۔ اس کا نام خواجہ عمرو ہے اور سب اسے عمرو عیار کہتے ہیں اور وہ سامنے کرسی پر بیٹھا ہے"۔ بوڑھے نے آخر کار فریاد کرتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی اس نے اس نے کرسی پر بیٹھے ہوئے عمر و عیار کی طرف اشارہ کر دیا ۔
خواجہ عمرو - اٹھ کر فریادی کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ"۔ سردار امیر حمزہ نے غصیلے لہجے میں کہا تو خواجہ عمرو خاموشی سے اٹھا اور بوڑھے کے قریب جا کر کھڑا ہو گیا ۔ اس کے چہرے پر حیرت کے آثار نمایاں تھے کیونکہ وہ تو اس بوڑھے کو زندگی میں پہلی بار دیکھ رہا تھا ۔
" ہاں ۔ اب تفصیل سے بتاؤ بزرگوار - که خواجه یہ دھیان رکھنا کہ عمرو نے تم پر کیا ظلم کیا ہے لیکن ہم جھوٹی فریاد کرنے والے کو عبرتناک سزا بھی دیتے ہیں ۔ سردار امیر حمزہ نے بوڑھے سے مخاطب ہو کر کہا۔

سردار ۔ میں ملک طوطان کا رہنے والا ہوں ۔ میرا ایک ہی اکلوتا بیٹا تھا جس کا نام اشام تھا ۔ اشام بے حد خوبصورت لڑکا تھا ۔ ایک روز وہ اپنے دوستوں کے ساتھ شکار کھیلنے قریبی جنگل میں گیا تو وہاں ایک بوڑھی عورت انہیں ملی جس نے کہا کہ اسے اشام پسند آگیا ہے وہ اس کی شادی اپنی بیٹی شہزادی پری سے کرے و گئی گی اور یہ کہہ کر وہ خود بھی غائب ہو اور اس کے ساتھ اشام بھی غائب ہو گیا ۔ اشام کے دوست روتے پیٹتے واپس آئے ۔ مجھے پتہ چلا تو میں بے حد پریشان ہوا کیونکہ اشام میرے بڑھاپے کا سہارا تھا تھی کے علاوہ میری اور کوئی اولاد نہ اشام ۔ میں شہر کے بڑے نجومیوں کے پاس گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ بوڑھی جادو گرنی ہے جس کا نام مانا جو ہے ۔ یہ جنگل جادوگرنی ہے لیکن کسی کو میں رہتی ہے بہت بڑی جادو تنگ نہیں کرتی ۔ اس نے پرستان کے ایک جادوگر سے اس کی بیٹی کو اس کے بچپن میں حاصل کیا اور اس کی پرورش کرتی رہی ہے ۔ اسے وہ شہزادی پری کہتی ہے ۔ اب شہزادی پری جوان ہو گئی ہے اور وہ و گئی اس کی شادی کسی خوبصورت آدم زاد سے کرنا چاہتی ہے لیکن شہزادی پری کسی پری زاد سے شادی کرنے کی خواہشمند ہے لیکن بوڑھی جادوگرنی اپنی ضد پر قائم ہے ۔ اس نے اشام کو پسند کر لیا ہے اور اسے غائب کر کے اپنے محل میں لے گئی ہے لیکن شہزادی پری نے اشام سے شادی کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ جس پر بوڑھی جادوگرنی نے اشام کو قید کر لیا ہے اور وہ اپنی بیٹی کو منا رہی ہے ۔ اگر ایک ماہ کے اندر اندر شہزادی پری اشام سے شادی پر تیار ہو گئی تو ان دونوں کی شادی ہو جائے گی ورنہ بوڑھی جادو گرنی اپنی بیٹی کو تو کچھ نہیں کہہ سکتی البتہ وہ اشام کو ہلاک کر دے گی اور نجومیوں نے مجھے بتایا کہ اس بوڑھی جادو گرنی سے اشام کو کوئی بچا سکتا خواجہ عمر و عیار ہے ہے تو وہ صرف اتفاق سے خواجہ عمر و عیار ان دنوں ملک طوطان میں موجود تھا ۔ میں نے جا کر خواجہ عمر و عیار سے فریاد کی تو خواجہ عمر و عیار نے صاف جواب دے دیا کہ وہ بغیر دولت کے میرے بیٹے کو نہیں بچا سکتا اور دولت میرے پاس نہ تھی ۔ میں نے خواجہ کی بہت منتیں کیں لیکن خواجہ نے مجھے کمرے سے نکال دیا اور دوسرے روز وہ وہاں سے یہاں آگیا ۔ میں روتا پیٹتا پیدل سفر کرتا یہاں آپ کے دربار میں آیا ہوں اٹھائیس دن ہو۔ سے میرے بیٹے کو غائب ہوئے آج گئے ہیں ۔ اگر دو دنوں کے اندر اندر خواجہ عمرو نے میرے بیٹے کو رہا نہ کرایا تو وہ بوڑھی جادو گرنی اسے ہلاک کر دے گی ۔ لیکن میں کیا کروں میں بے حد غریب ہوں ۔ خواجہ عمرو کو دولت کہاں لا کر دوں" " ۔ بوڑھے بو نے پوری تفصیل سے واقعات بیان کرتے ہوئے کہا تو اسی لمحے عمر و عیار کو بھی یاد آگیا کہ جب وہ ملک طوطان میں ٹھہرا ہوا تھا تو یہ بوڑھا اس کے پاس آیا تھا لیکن چونکہ اس کے پاس دولت تھی اس لئے عمرو نے اس کی مدد کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا لیکن اسے خیال تک نہ تھا کہ یہ بوڑھا یہاں سردار امیر حمزہ کے دربار میں بھی پیش ہو جائے گا اور وہ یہ بات بھی جانتا تھا کہ اگر اس نے سردار امیر حمزہ کو کہہ دیا کہ اس نے واقعی دولت نہ ہونے کی وجہ سے بوڑھے کی مدد نہ کی تھی تو سردار امیر حمزہ اسے عبرتناک سزا دے گا اور یہ بھی اسے معلوم تھا کہ اگر اس نے جھوٹ بولا کہ وہ اس بوڑھے کو نہیں جانتا تو سردار امیر حمزہ اس سرائے کے مالک کو طلب کر لیں گے جہاں یہ بات ہوئی تھی اور پھر اس کے بیان کے بعد تو اسے لامحالہ جھوٹا قرار دے دیا جائے گا اور اس طرح سردار امیر حمزہ اسے عبرتناک سزا دے گا اس لئے وہ سوچ رہا تھا کہ اب وہ کوئی ایسا بہانہ کرے جس سے وہ سزا سے بچ جائے
یہ بات " تمہارا کیا جواب ہے خواجہ عمرو ۔ لیکن تم جانتے ہو کہ جھوٹ سے مجھے سخت نفرت ہے"۔ سردار امیر حمزہ نے عمرو سے کہا ۔
جناب اس بوڑھے فریادی نے جو کچھ کہا ہے وہ درست ہے بوڑھا ملک طوطان کی سرائے میں میرے پاس آیا تھا اور میں نے اس کی فوری طور پر مدد کرنے سے معذوری ظاہر کر دی تھی ۔ اس لئے نہیں کہ اس کے پاس دولت نہ تھی بلکہ اس لئے کہ میرے پاس شہزادہ اسد کا آپ کے لئے خصوصی پیغام تھا جو میں نے آپ تک فوری پہنچانا تھا ۔ اگر میں بوڑھے کی مدد کرتا تو لامحالہ میں یہ پیغام آپ تک نہ پہنچا سکتا تھا ۔ اس طرح شہزادہ اسد اور اس کی فوجوں کو نقصان پہنچتا ۔ بس یہی بات تھی۔ خواجہ عمرو نے فوراً ہی ایک بہانہ بناتے ہوئے کہا ۔

" لیکن پیغام پہنچانے کے بعد تو تم اس بوڑھے کی مدد کر سکتے تھے۔ سردار امیر حمزہ نے کہا - وہ خواجہ عمرو کی رگ رگ سے واقف تھے ۔ انہیں یقین تھا کہ یہ صرف عمرو نے بہانہ بنایا ہے ورنہ اصل بات یہی ہے کہ وہ لالچی ہونے کی وجہ سے غریبوں کا کام نہیں کرتا تھا ۔
" پھر سردار میں بھول گیا ۔ خواجہ عمرو نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا
ہونہہ ۔ ابھی دو دن باقی ہیں اور سنو ۔ یہ ہمارا حکم ہے کہ تم دو دنوں کے اندر اندر اس بوڑھے کے بیٹے کو بچا کر زندہ سلامت ہمارے سامنے پیش کرو
اگر تم ایسا نہ کر سکے تو تمہیں عبرتناک سزا دی جائے گی اور اگر تم نے ایسا کر لیا تو ہم تمہیں اپنی طرف سے بھاری انعام دیں گے تب تک یہ بوڑھا ہمارے شاہی مہمان خانے میں رہے گا۔ امیر حمزہ نے فیصلہ کن لہجے میں کہا ۔
حج - جناب" - عمرو نے کچھ کہنا چاہا ۔

" ہم فیصلہ کر چکے ہیں ۔ اس لئے کوئی بات نہیں سننا چاہتے ۔ تمہارے پاس صرف دو دن ہیں ۔ یا تو انعام حاصل کرو یا پھر عبرتناک سزا کے لئے تیار رہو"۔ سردار امیر حمزہ نے کہا تو خواجہ عمرو نے سر جھکا دیا لیکن وہ دل ہی دل میں اس بوڑھے کو کوس رہا تھا جس کی وجہ سے اسے بغیر کسی پیشگی انعام کے کام کرنا پڑے گا اور وہ بھی اتنے مختصر وقت میں ۔ دربار ختم ہونے پر خواجہ عمر و عیار گھر گیا اور پھر وہاں سے تیار ہو کر وہ گھر سے نکلا اور جنگل کی طرف روانہ ہو گیا جنگل میں پہنچ کر اس نے زنبیل میں سے بولنے والی گڑیا نکالی اور اس کے سر پر انگوٹھا رکھ کر دبایا اور اے حکم دیا کہ وہ اسے تفصیل سے بتائے کہ وہ کس طرح اس بوڑھے کے بیٹے اشام کو در روز میں زندہ بچا سکے گا ۔ خواجہ عمرو ۔ اگر تم فوری طور پر بوڑھے کے بیٹے اشام کو رہا کرانا چاہتے ہو تو تمہیں اس کے لئے شہزادی پری سے ملنا پڑے گا ۔ اگر شہزادی پری چاہے تو وہ اشام کو اس بوڑھی جادوگرنی کی قید سے نکال کر تمہارے حوالے کر سکتی ہے وقت یہ کام کرے لیکن شہزادی پری اس قیمتی کام کرے گی جب تم اسے اپنا سب سے چھ کونوں والا ہیرا انعام میں دو ۔ ورنہ نہیں ۔ اشام کو بچانے کی اور کوئی صورت نہیں ہے"۔ بولنے والی گڑیا نے جواب دیا ۔
اگر میں اس بوڑھی جادوگرنی کو ہلاک کر دوں تب" - عمرو نے کہا کیونکہ چھ کونوں والا ہیرا دینے کا تو وہ سوچ بھی نہ سکتا تھا ۔ بوڑھی جادوگرنی سات سمندروں کے نیچے خصوصی گے اور اگر اشام کو اس رہائی نہ دلائی گئی تو عبادت میں مصروف ہے ۔ تم اس تک پہنچ ہی نہ سکو کو اس قید خانے سے وه دو روز بعد خود بخود ہلاک ہو جائے گا ہو جائے گا اور پھر سردار امیر حمزہ تمہیں موت کی سزا دے دیں گے"۔ بولنے والی گڑیا نے جواب دیا ۔
" اوہ ۔ اوہ ۔ میں مرنا نہیں چاہتا ۔ اچھا تم مجھے بتاؤ کہ شہزادی پری سے فوری طور پر کیسے ملاقات ہو سکتی ہے ۔ عمرو نے کہا ۔ - اس جنگل میں ایک ایسا درخت ہے جو بالکل سوکھ چکا ہے ۔ اس پر ایک سپہ بھی نہیں ہے ۔ تم اس درخت کو تلاش کرو اور اس پر چڑھ کر شہزادی پری کو کو آواز دے اس سے وعدہ کر اس کرو کہ تم اسے چھ کونوں والا ہیرا انعام میں دو گے تب شہزادی پری اچانک اس درخت کے نیچے جھاڑیوں میں نمودار ہو جائے گی لیکن اگر تم نے اسے چھ کونوں والا ہیرا نہ دیا تو وہ واپس چلی جائے گی اور پھر تمہیں موت کی سزا سے کوئی نہ بچا سکے گا ۔ بولنے والی گڑیا نے جواب دیا تو عمرو نے اس کے سر سے انگوٹھا ہٹایا ۔ اسے زنبیل میں ڈالا اور سوکھے درخت کی تلاش میں آگے بڑھ گیا ۔ وہ دل ہی دل میں اس وقت کو کوس رہا تھا جب وہ طوطان کی سرائے میں ٹھہرا تھا - اس امید سوکھا تھی کہ کہ وہ اس شہزادی پری کو اپنی عیاری سے چکر دینے میں کامیاب ہو جائے گا ۔ پھر اسے وہ درخت نظر آگیا تو وہ اس پر چڑھا اور اس نے شہزادی پری کو چھ کونوں والا ہیرا دینے کا کہتے ہوئے آوازیں دینا شروع کر دیں ۔ چند لمحوں بعد اچانک درخت کے نیچے موجود سر سبز جھاڑیوں میں سے ایک خوبصورت پری نمودار ہو گئی ۔ عمرو ہو گئی ۔ عمرو نے دیکھا کہ اس پری کے سر پر سونے کا تاج تھا جس میں قیمتی ہیرے جڑے ہوئے تھے عمرو جلدی سے درخت سے نیچے اتر آیا ۔ وہ حیرت سے اس خوبصورت شہزادی پری کو دیکھ رہا تھا جو زمین میں سے نمودار ہوئی تھی ۔

" مجھے کچھ بتانے کی ضرورت نہیں ہے خواجہ عمرو ۔
مجھے سب معلوم ہے ۔ اگر تم مجھے چھے کونوں والا ہیرا انعام میں دو تو میں ابھی اشام کو بوڑھی جادوگرنی کی قید سے رہائی دلا کر یہاں پہنچا سکتی ہوں ورنہ میں اور پھر سردار امیر حمزہ تمہیں واپس چلی جاؤں گی موت کی سزا دے گا اور سنو ۔ ہاں یا ناں میں جواب دو ۔ میں تمہاری کسی عیاری میں نہیں آؤں گی"۔ شہزادی پری نے کہا ۔ میری بات تو سنو دنیا کی انتہائی خوبصورت شہزادی پری" - عمرو عیار نے اپنی عیاری سے کام لینا شروع کرتے ہوئے کہا ۔
میں تمہاری کوئی بات نہیں سننا چاہتی ۔ ہاں یا ناں میں جواب دو ۔ ورنہ میں جا رہی ہوں"۔ شہزادی پری نے کہا اور اس کے ساتھ ہی وہ واپس زمین میں غائب ہونا شروع ہو گئی ۔ رک جاؤ رک جاؤ ۔ سردار امیر حمزہ واقعی مجھے قتل کر دیں گے اچھا وعدہ رہا کہ میں تمہیں چھ کونوں والا ہمیرا انعام میں دوں گا ۔ پہلے اشام کو تو لے آؤ - عمرو نے رو دینے والے لہجے میں کہا . نہیں ۔ پہلے ہیرا پھر اشام اور میں صرف پانچ تک گنوں گی اگر تم نے ہمیرا نہ دیا تو میں غائب ہو جاؤں گی ۔ شہزادی نے کہا تو عمرو نے روتے ہوئے زنبیل میں سے چھ کونوں والا ہیرا نکالا اور بڑے حسرت بھرے انداز میں اس نے ہمیرا شہزادی پری کی طرف بڑھا دیا ۔ شہزادی پری نے وہ ہیرا جھپٹا اور پھر غائب ہو گئی اور عمرو دیکھتے کا دیکھتا رہ گیا ۔ تھوڑی ہی دیر بعد عمرو نے وہاں ایک خوبصورت سے نوجوان وہ کو کھڑے دیکھا جہاں پہلے شہزادی پری کھڑی تھی نوجوان حیرت بھری نظروں سے عمر و عیار کو دیکھ رہا تھا عمرد نے جب اس سے اس کا نام پوچھا تو اس نوجوان نے اسے اپنا نام اشام بتایا - عمرو عیار نے اسے سارا واقعہ بتایا اور پھر اسے ساتھ لے کر وہ سردار امیر حمزہ کے پاس پہنچ گیا ۔ سردار امیر حمزہ نے فوراً بوڑھے کو بلایا ۔ بوڑھے نے جب اپنے بیٹے اشام کو دیکھا تو وہ خوشی سے اچھل پڑا اور پھر اس نے سردار امیر حمزہ کا شکریہ ادا کیا اور سردار امیر حمزہ نے اسے انعام واکرام دے کر رخصت کر دیا ۔ " سردار - میرا انعام" - عمر و عیار نے کہا ۔

" تمہارا انعام یہی ہے کہ تم زندہ ہو ۔ ورنہ ہم تمہیں ہلاک کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ سردار امیر حمزہ نے جواب دیا تو عمرو نے بے اختیار رونا پیٹنا شروع کر دیا اور سردار امیر حمزہ کو بتایا کہ کس طرحوہ اپنا نایاب ہیرا دے کر اشام کو لے کر آیا ہے تو سردار امیر حمزہ کو اس پر رحم آگیا اور انہوں نے اسے بہت سا انعام دیا اور عمرو کسی حد تک مطمئن ہو گیا لیکن اس نے بھی فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اس شہزادی پری سے اپنا چھ کونوں والا نایاب ہیرا واپس لے گا بلکہ اس نے جو تاج اور ہیرے جواہرات پہن رکھے تھے وہ بھی اس سے حاصل کرے گا اور یہی سوچتا ہوا وہ سردار امیر حمزہ کے دربار سے نکل کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا ۔ 

ختم شد