Ummro Ayaar or Taaj Pari by Mazhar Kaleem M.A

Ummro Ayaar or Taaj Pari by Mazhar Kaleem M.A

عمرو اور تاج پری (Ummro Ayaar or Taaj Pari)

خواجہ عمرو اپنے مکان میں بیٹھا کمرہ بند کرکے اپنی زنبیل سے دولت نکال کر اس کو گننے میں مصروف تھا کہ دروازے پر دستک کی آواز سنائی دی تو خواجہ عمرو بے اختیار چونک پڑا۔
"کون ہے"۔ اس نے اونچی آواز میں پوچھا۔
خواجہ صاحب، سردار امیر حمزہ کا خاص ملازم آپ کو دربار میں بلانے آیا ہے"۔ باہر سے اس کے ملازم کی آواز سنائی دی۔
اچھا، اسے بھجوا دو۔ میں تیار ہو کر پہنچ جاتا ہوں"۔ خواجہ عمرو نے کہا اور پھر اس نے دولت واپس زنبیل میں ڈالنا شروع کر دی۔ دولت واپس زنبیل میں ڈال کر اس نے لباس تبدیل کیا اور پھر اپنی زنبیل کاندھے سے لٹکا کر وہ اپنے مکان سے نکلا اور پھر سردار امیر حمزہ کے دربار میں پہنچ گیا۔ وہاں درباری پہنچ چکے تھے لیکن ابھی سردار امیر حمزہ خود تشریف نہ لائے تھے لیکن خواجہ عمرو اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھ گئے۔

Ummro Ayaar Fairy queen with radiant jewel

تھوڑی دیر بعد سردار امیر حمزہ آ کر اپنے مخصوص تخت پر بیٹھ گئے اور پھر سردار امیر حمزہ کے سامنے مختلف مقدمات پیش ہونے لگے اور سردار جب ان کا فیصلہ کرنے میں مصروف ہو گئے مقدمے ختم ہو گئے تو سردار امیر حمزہ نے دربار برخواست کر دیا اور خواجہ عمرو کو حکم دیا کہ وہ اس کے خاص کمرے میں پہنچ جائے۔ خواجہ عمرو حیران تھا کہ سردار نے اسے اپنے کمرے میں کیوں طلب کیا ہے لیکن چونکہ وہ سردار امیر حمزہ کے حکم کا پابند تھا اس لئے وہ خاص کمرے میں پہنچ گیا۔ تھوڑی دیر بعد سردار امیر حمزہ بھی وہاں آگئے ۔


خواجہ عمرو، ہم نے تمہیں اس لئے طلب کیا ہے کہ ہمیں اطلاع ملی ہے کہ ملک ساگان کے باہر ایک جنگل میں ایک پری رہتی ہے۔ جس کا نام تاج پری ہے۔ کیونکہ وہ ہمیشہ اپنے سر پر خوبصورت سا تاج پہنے رکھتی ہے۔ اس تاج پری کے پاس ایک ایسا ہیرا ہے جو کافی بڑا ہے اور اس ہیرے کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ہیرا جس سردار کے پاس ہو اس پر کسی جادو کا اثر نہیں ہوتا ہم اس ہیرے کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ ہیرا اپنے بیٹے کو دے کر جادوگروں کے ملک بھیجیں اور ان جادوگروں کو شکست دی جا سکے جو مسلمانوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں۔ اس طرح ہمارا بیٹا جادو سے محفوظ ہو جائے گا اور ہمیں اطمینان رہے گا۔ سردار امیر حمزہ نے کہا۔
سردار - آپ اس پری کو پیغام بھجوا دیں وہ یقیناً یہ ہیرا آپ کو تحفے میں پیش کر دے گی۔ خواجہ عمرو نے کہا۔
" نہیں، ہم نے پیغام بھجوایا تھا لیکن اس نے صاف انکار کر دیا ہے۔ اس لئے ہم تمہیں یہ ہیرا حاصل کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ اگر تم یہ ہیرا لے کر نہ آئے تو تمہیں ہلاک کر دیا جائے گا۔ سردار امیر حمزہ نے کہا۔
لیکن سردار پہلے مجھے پیشگی کے طور پر کچھ انعام تو دے دیجئے۔ خواجہ عمرو نے منت بھرے لہجے میں کہا۔
" مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارے پاس بہت دولت اکٹھی ہو گئی ہے۔ سردار امیر حمزہ نے کہا۔
اوہ نہیں سردار، میں تو غریب آدمی ہوں ۔ آپ بے شک میری بیوی چاند ستاره سے پوچھ لیں"
خواجہ عمرو نے گھبراتے ہوئے لہجے میں کہا۔

تم کنجوس ہو ۔ اس لئے مجھے معلوم ہے کہ تم ساری دولت اپنی زنبیل میں چھپائے رکھتے ہو اور اپنی بیوی کو بھی نہیں دیتے اور یہ سن لو کہ ہم مسلمانوں کے سردار ہیں اس لئے اگر میں زنبیل کو حکم دے دوں تو وہ ابھی اپنے اندر موجود ساری دولت نکال کر باہر ڈھیر کر دے گی"۔ سردار امیر حمزہ نے کہا۔
اوه اوه سردار آپ رحمدل اور سخی ہیں۔ مجھ پر رحم کریں ۔ عمرو نے فوراً گھبرا کر ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔
" تو پھر جا کر ہیرا لے آؤ پھر انعام ملے گا۔ سردار امیر حمزہ نے کہا۔
" مگر سردار، وہ بدشگونی ہو جائے گی"۔ عمرو نے ڈرتے ڈرتے کہا تو سردار امیر حمزہ بے اختیار ہنس پڑے ۔

"تم واقعی بے حد لالچی ہو۔ بہرحال چونکہ تم مسلمانوں کے لئے کام کرتے ہو اس لئے تمہیں برداشت کیا جاتا ہے ۔ لو انعام لے لو" - سردار امیر حمزہ نے کہا اور اپنے گلے میں موجود انتہائی قیمتی موتیوں کا ہار اتار کر اس نے خواجہ عمرو کو دے دیا۔ خواجہ عمرو بے حد خوش ہوا اس نے سردار امیر حمزہ کو فرشی سلام کیا اور پھر خاص کمرے سے باہر آگیا۔ دربار سے نکل کر وہ واپس اپنے گھر گیا تاکہ دربار کا لباس تبدیل کرکے دوسرا لباس پہن لے۔ ابھی اس نے لباس تبدیل کیا ہی تھا کہ کمرے کا دروازہ ایک دھماکے سے کھلا اور اس کی ہتھنی سے بھی موٹی بیوی چاند ستارہ اندر داخل ہوئی۔

" دیکھو کیسی لگتی ہوں میں"۔ چاند ستارہ نے ہار اپنی گردن میں ڈال کر اٹھلاتے ہوئے کہا۔
"بب، بہت خوبصورت لگ رہی ہو"۔ خواجہ عمرو نے مجبوراً تعریف کرتے ہوئے کہا جبکہ دل ہی دل میں وہ اسے موٹی چڑیل کہہ رہا تھا لیکن اس کی اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ ایسا منہ سے کہہ دے کیونکہ اسے معلوم تھا کہ چاند ستارہ نے اس کی ساری ہڈیاں توڑ دینی ہیں۔ چاند ستارہ خوش ہوتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئی۔

میرا ہار چلا گیا۔ ہائے میرا ہار۔ خواجہ عمرو نے روتے ہوئے کہا لیکن ظاہر ہے اب وہ کیا کر سکتا تھا اس لئے مجبوراً خون کے گھونٹ پی کر وہ اپنے مکان نکلا اور پھر جنگل میں پہنچ گیا۔ اس نے سب سے سے پہلے زنبیل میں سے بولنے والی گڑیا نکالی اور اس سر پر انگوٹھا رکھ کر دبایا تو گڑیا کی آنکھیں زندہ انسانوں کے جیسی ہو گئیں
"بولنے والی گڑیا۔ مجھے بتاؤ کہ تاج پری کہاں رہتی ہے اور اس سے ہیرا کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے"۔ عمرو نے بولنے والی گڑیا سے مخاطب ہو کر کہا۔
خواجہ عمرو کو بتایا جاتا ہے کہ تاج پری ملک ساگان سے باہر ایک جنگل کے باغ نما حصے میں رہتی ہے۔ وہاں اس کا خوبصورت محل بھی ہے جو سرخ رنگ کا ہے لیکن اس باغ میں انتہائی خوفناک اژدہے رہتے ہیں جو تاج پری کے محافظ ہیں اور جو آدمی وہاں جائے یہ اژدہے اسے کھا جاتے ہیں اور یہ بھی خواجہ عمرو کو بتایا جاتا ہے کہ خواجہ عمرو صرف عیاری سے کام لے کر ہیرا حاصل کر سکتا ہے ورنہ ہیں بھی خواجہ عمرو کو بتایا جاتا ہے کہ تاج پری بے حد خوبصورت ہے اس لئے وہ بدصورت ہونے سے بے ڈرتی ہے"۔ بولنے والی گڑیا نے کہا اور اس کی آنکھیں دوبارہ پہلے جیسی ہو گئیں 

 "عمرو نے گڑیا کو واپس زنبیل میں ڈالا اور زنبیل میں سے جادو کی جوتیاں نکال کر پہن لیں۔ مجھے ملک ساگان سے باہر اس جنگل کے کنارے پر پہنچا دو جہاں تاج میری رہتی ہے"۔ خواجہ عمرو نے کہا تو اس کے جسم کو جھٹکا سا لگا اور اس کے ساتھ ہی وہ ہوا میں اڑنے لگا۔ پھر مسلسل کئی گھنٹوں تک اڑنے کے بعد وہ ایک جنگل کے کنارے پر اتر گیا تو اس نے جادو کی جوتیاں اتار کر واپس زنبیل میں ڈالیں اور اپنی عام جوتیاں نکال کر پہن لیں۔ پھر اس نے زنبیل میں سے سیاہ رنگ کی ایک شیشی نکالی اور اس کو کھول کر اس کے اندر موجود سیاہ رنگ کی چھوٹی چھوٹی گولیوں میں سے ایک گولی نکال کر منہ میں ڈالی اور پھر اس نے اسے چبا کر نگل لیا۔ اسے معلوم تھا کہ اس گولی کو کھانے کے بعد اس کے جسم سے ایسی بو نکلنے لگے گی کہ جنگل کا کوئی جانور اس کے قریب نہ آ سکے گا اور نہ ہی کوئی اژدہا اس کے قریب آئے گا۔ اس لئے وہ اب اطمینان سے چلتا ہوا جنگل میں داخل ہو گیا۔ دور دور تک جنگل خوفناک درندوں سے بھرا ہوا تھا لیکن کوئی درندہ اس کے قریب نہ آیا۔ وہ سب اسے دیکھتے ہی دور بھاگ جاتے تھے اور خواجہ عمرو اطمینان سے چلتا ہوا آگے بڑھتا چلا گیا اور پھر وہ جنگل کے اس حصے میں پہنچ گیا جو واقعی باغ کی طرح خوبصورت تھا لیکن وہاں ہر طرف درختوں کے ساتھ بڑے بڑے اور رنگدار اژدہے چمٹے ہوئے تھے اور اژدہے ایک درخت سے دوسرے درخت تک پہنچے ہوئے تھے اس طرح ان کے جسم رسوں کی طرح ہوا میں لٹکے ہوئے تھے۔ ایک طرف گہرے سرخ رنگ کا خوبصورت محل بھی موجود تھا۔ خواجہ عمرو اس محل کے قریب پہنچا ہی تھا کہ محل کا دروازہ کھلا اور ایک خوبصورت پری باہر آگئی۔ اس نے انتہائی خوبصورت لباس پہنا ہوا تھا۔ اس کے نیلے اور سبز رنگ کے بڑے بڑے پر تھے اور اس نے سر پر ایک عجیب لیکن خوبصورت سا تاج پہنا ہوا تھا۔


کون ہو تم اور یہاں کیسے آگئے ہو۔ اس پری نے حیران ہو کر خواجہ عمرو کو دیکھتے ہوئے کہا۔
"میرا نام خواجہ عمرو ہے اور میں تم سے ہیرا لینے آیا ہوں"۔ خواجہ عمرو نے کہا۔
بھاگ جاؤ ورنہ اب ابھی میں اپنے محافظوں کو حکم دے دوں گی اور وہ تمہیں کھا جائیں گے۔ تاج پری نے غصیلے لہجے میں کہا۔
نہیں، میں ہیرا لے کر جاؤں گا۔ تم مجھے ہیرا دے دو۔ خواجہ عمرو نے کہا۔
" بڑے اژدہے اس خواجہ عمرو کو کھا جاؤ ۔ تاج پری نے چیختے ہوئے کہا تو خواجہ عمرو کو اپنے عقب میں خوفناک پھنکار سنائی دی۔ وہ تیزی سے مڑا تو اس کا چہرہ بے اختیار  خوف سے  بگڑتا چلا گیا۔ اس نے  دونوں ہاتھ اٹھائے کیونکہ اس کے سامنے ایک بہت بڑا اور انتہائی خوفناک اژدہا اپنا پھن اٹھائے موجود تھا اور اس کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ ابھی اسے کھا جائے گا۔ رک جاؤ ورنہ مارے جاؤ گے۔ خواجہ عمرو نے چیختے ہوئے کہا۔ اس کے لہجے سے شدید خوف جھلک رہا تھا لیکن اسی لمحے خوفناک اژدہے نے اس پر حملہ کر دیا


لیکن جیسے ہی وہ اس کے قریب آیا وہ تیزی سے الٹ کر پیچھے ہٹا اور دوڑتا ہوا ایک طرف غائب ہو گیا تو عمرو نے اطمینان بھرا سانس لیا کیونکہ اسے معلوم ہو گیا تھا کہ اس نے جو سیاہ گولی کھائی ہے اس کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ وہ تیزی سے مڑا تو یہ  دیکھ کر بے اختیار چونک پڑا کہ تاج پری ایک اژدہے کے جسم پر چڑھ کر گھٹنوں کے بل چلتی ہوئی آگے بڑھی چلی جا رہی تھی۔ اس کے ایک ہاتھ میں  بڑا سا ہیرا تھا۔ وہ شاید ہیرا چھپانے جا رہی تھی۔


" ارے تمہارا تو چہرہ بگڑ رہا ہے۔ اوہ، اوہ تم تو بدصورت ہو رہی ہو"۔ اچانک عمرو نے عیاری سے کام لیتے ہوئے کہا۔
کیا، کیا کہہ رہے ہو۔ یہ یہ کیسے ہو سکتا ہے"۔ تاج پری نے خوفزدہ ہو کر کہا کیونکہ وہ بدصورتی سے بے حد ڈرتی تھی۔
اپنی شکل ہیرے میں دیکھ لو۔ عمرو نے کہا تو تاج پری نے اپنے آپ کو ہیرے میں دیکھا اور دوسرے لمحے وہ چیختی ہوئی نیچے زمین پر آکھڑی ہوئی۔
مجھے بچاؤ، مجھے بد صورتی سے بچاؤ میں بدصورت نہیں ہونا چاہتی ۔ تاج پری نے چیخ کر کہا کیونکہ ظاہر ہے ہیرے میں اسے اپنی شکل بگڑی ہوئی نظر آئی تھی۔ کیونکہ ہیرے کے کٹاؤ کی وجہ سے لازماً شکل بگڑی ہوئی دکھائی دینی تھی اور یہی عیاری خواجہ عمرو نے کی تھی۔


 ہیرا مجھے دے دو تو تم خوبصورت  ہو  جاؤ گی اور کبھی بدصورت نہ  ہو سکو گی ورنہ تم پری کی بجائے چڑیل بن جاؤ گی۔ خواجہ عمرو نے کہا تو تاج پری نے ہاتھ میں پکڑا ہوا ہیرا خواجہ عمرو کی طرف پھینک دیا اور خواجہ عمرو نے جلدی سے ہیرا اٹھا کر زنبیل میں ڈالا اور زنبیل میں سے جادو کا آئینہ نکال کا تاج پری کو دے دیا۔ یہ آئینہ بدصورت کو بھی خوبصورت دکھاتا تھا۔ تاج پری نے جب آئینہ دیکھا تو وہ بے حد خوش ہوئی۔ ظاہر ہے وہ پہلے سے زیادہ خوبصورت دکھائی دی تھی۔

 اس نے الٹا خواجہ عمرو کا شکریہ ادا کیا اور اسے ہیرا لے جانے کی اجازت دے دی۔ خواجہ عمرو اپنی عیاری پر دل ہی دل میں بے حد خوش تھا اور وہ واپس پلٹ پڑا۔ وہ خوش تھا کہ اس نے نہ صرف ہیرا حاصل کر لیا بلکہ اب وہ سردار امیر حمزہ سے انعام بھی حاصل کرے گا۔

ختم شد