اسقاطِ حمل (Abortion)، ماحولیات، اور صدارتی اختیارات سے متعلق مقدمات
امریکہ (United States) کے سپریم کورٹ (Supreme Court) کے فیصلوں اور اس کے غیر جانبدارانہ کردار سے متعلق عوامی اعتماد میں شدید کمی دیکھی جا رہی ہے۔ "بالز اینڈ اسٹرائیکس" (Balls and Strikes) کی رپورٹ کے مطابق، 2026 کے وسط مدتی انتخابات (2026 Midterms) سے قبل کرائے گئے حالیہ امریکی سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکی عوام کی اکثریت کا ماننا ہے کہ عدالتی فیصلے آئین اور قانون کے بجائے سیاسی نظریات سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
پول کے نتائج کے مطابق، سپریم کورٹ کی مقبولیت اب تک کی سب سے نچلی ترین سطح پر آ گئی ہے۔ تقریباً نصف سے زائد شہریوں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج اپنے ذاتی و سیاسی رجحانات اور حزبی ترجیحات کو بنیادی قانون پر فوقیت دیتے ہیں۔ خاص طور پر اسقاطِ حمل (Abortion)، ماحولیات، اور صدارتی اختیارات سے متعلق مقدمات کے فیصلوں کے بعد عدالتِ عظمیٰ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
عدالتی تجزیہ کاروں اور قانون دانوں نے خبردار کیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری پر عوام کا عدم اعتماد امریکی جمہوریت اور آئینی نظام کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔ ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں کے حمایتیوں کی ایک بڑی تعداد کا ماننا ہے کہ سپریم کورٹ کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک رکھنے کے لیے نئی اصلاحات کا نفاذ اب ناگزیر ہو چکا ہے۔

