سٹریٹ آف ہرمز کی بندش: عراق (iraq) کا پائپ لائن کے ذریعے تیل کی برآمدات تین گنا بڑھانے کا بڑا فیصلہ
عالمی توانائی کی منڈی اور مشرق وسطیٰ سے اس وقت کی سب سے بڑی معاشی اور تزویراتی خبر سامنے آئی ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری شدید جنگ کی وجہ سے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ "آبنائے ہرمز" (Strait of Hormuz) مکمل طور پر بند ہو چکی ہے، جس نے خلیجی ممالک کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے عراقی حکومت نے ایک ہنگامی اور تاریخی فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت عراق پائپ لائن کے ذریعے اپنے خام تیل کی برآمدات کو تین گنا بڑھانے (Iraq Looks to Triple Pipeline Oil Exports as Hormuz Remains Closed) کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اس فیصلے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔
خلیج فارس میں جاری کشیدگی اور بحری جہازوں پر حملوں کے باعث عراق کی جنوبی بندرگاہوں سے ہونے والی تیل کی سپلائی تقریباً 89 فیصد تک گر گئی تھی، جس سے عراقی معیشت (iraq currency) کو شدید دھچکا پہنچ رہا تھا۔ اس معاشی تباہی سے بچنے کے لیے بغداد حکومت نے کردستان ریجنل گورنمنٹ (KRG) کے ساتھ مل کر ایک ہنگامی معاہدہ کیا ہے تاکہ 'کرکوک-جیہان پائپ لائن' کے ذریعے ترکیہ کی بندرگاہ تک تیل پہنچایا جا سکے۔ عراقی حکام کے مطابق، اس وقت پائپ لائن کے ذریعے روزانہ 220,000 بیرل تیل برآمد کیا جا رہا ہے، جسے اگلے ڈھائی ماہ کے اندر بڑھا کر 770,000 بیرل روزانہ تک پہنچایا جائے گا، جو کہ موجودہ سپلائی کا تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔
صرف ترکیہ ہی نہیں، بلکہ عراق متبادل راستوں کے لیے شام کے ساتھ بھی ایک بڑے معاہدے پر دستخط کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس کے تحت بانیاس اور طرطوس کی بحیرہ روم کی بندرگاہوں کے ذریعے عراقی تیل (Basrah Light) عالمی منڈی تک پہنچایا جائے گا۔ دوسری طرف، متحدہ عرب امارات (UAE) اور سعودی عرب بھی تنگہ ہرمز کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی زمینی پائپ لائنز کو پوری صلاحیت پر چلا رہے ہیں۔ یو اے ای نے فجیرہ پورٹ تک اپنی پائپ لائن کی گنجائش کو دگنا کرنے کے لیے ہنگامی کام شروع کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری اس جنگ نے خلیجی ممالک کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ سمندری راستوں پر انحصار ختم کر کے مستقل طور پر پائپ لائن نیٹ ورک کی طرف منتقل ہو جائیں۔
اس بڑے معاشی بحران اور جنگی صورتحال کے باوجود، سرمایہ کار طویل مدتی منصوبوں کے لیے اب بھی عراقی مارکیٹ پر بھروسہ کر رہے ہیں، کیونکہ ملک میں تیل کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ تاہم، موجودہ جغرافیائی سیاسی تناؤ کی وجہ سے بین الاقوامی طلبہ جو عراق میں تعلیم حاصل کرنے (study in iraq) کا ارادہ رکھتے تھے، یا وہ تاجر جو کھیلوں اور ثقافتی تبادلوں جیسے کہ اسپین بمقابلہ عراق (spain vs iraq) فٹ بال میچز یا تجارتی دوروں میں دلچسپی رکھتے تھے، سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنی سرگرمیاں معطل کرنے پر مجبور ہیں۔ ماہرین کے مطابق جب تک ایران جنگ کا مستقل خاتمہ اورآبنائے ہرمز دوبارہ نہیں کھلتا، تب تک عالمی توانائی کا یہ بحران مزید سنگین ہوتا جائے گا۔
آبنائے ہرمزکی بندش اور ایران جنگ نے خلیج کے انرجی سیکٹر کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ عراق کی جانب سے متبادل پائپ لائنوں کے ذریعے اپنے تیل کی برآمدات کو تین گنا بڑھانے کا ہنگامی اقدام ملکی بقا اور معیشت کو سہارا دینے کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔ اگرچہ یہ پائپ لائنز عراق کے روایتی سمندری کوٹے کا صرف 21 فیصد ہی پورا کر سکیں گی، لیکن موجودہ بدترین معاشی حالات میں یہ بغداد حکومت کے لیے ایک اہم لائف لائن ثابت ہوں گی۔ عالمی برادری اس وقت سستے اور محفوظ متبادل راستوں کی تلاش میں ہے تاکہ دنیا کو توانائی کے اب تک کے سب سے بڑے بحران سے بچایا جا سکے۔

