ویزا اور ماسٹر کارڈ (visa mastercard)کا 38 ارب ڈالر کا تاریخی معاہدہ
امریکی جج نے ابتدائی منظوری دے دی
عالمی مالیاتی مارکیٹ اور بزنس انڈسٹری سے اس وقت کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز سامنے آئی ہے، جس نے وال اسٹریٹ اور دنیا بھر کے تاجروں کو حیران کر دیا ہے۔ ایک طویل قانونی جنگ کے بعد، امریکی وفاقی جج نے ویزا اور ماسٹر کارڈ(visa mastercard) کے درمیان ہونے والے 38 ارب ڈالر کے تاریخی سوائپ فیس معاہدے کو قبول کر لیا ہے۔ انٹرنیٹ پر اس وقت ویزا اور ماسٹر کارڈ سیٹلمنٹ جج کی منظوری (visa mastercard settlement judge approval) کے حوالے سے خبریں تیزی سے ٹرینڈ کر رہی ہیں۔ اس تاریخی فیصلے کے بعد کریڈٹ کارڈ فیسوں کے تنازع پر دو دہائیوں سے جاری قانونی تنازعات فی الحال ختم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، جس کا براہِ راست فائدہ لاکھوں چھوٹے اور بڑے کاروباری اداروں کو پہنچے گا۔
تفصیلات کے مطابق، بروکلین کی وفاقی عدالت کی جج مارگو بروڈی نے اس تصفیے کو ابتدائی طور پر منصفانہ اور مناسب قرار دیتے ہوئے اپنی منظوری دی ہے۔ اس سے قبل پچھلے سال جج نے ایک اور معاہدے کو مسترد کر دیا تھا، لیکن اب نظرثانی شدہ شرائط کے تحت ویزا اور ماسٹر کارڈ(visa mastercard) اگلے پانچ سالوں کے دوران مرچنٹس سے وصول کی جانے والی سوائپ فیس (Swipe Fees) میں واضح کمی کرنے پر راضی ہو گئے ہیں۔ اس اقدام سے امریکی تاجروں کو سالانہ اربوں ڈالر کی بچت ہوگی، جو وہ کسٹمرز کی جانب سے کریڈٹ کارڈز یا ڈیبٹ کارڈز کے استعمال پر ان کمپنیوں کو فیس کی مد میں ادا کرتے تھے۔
اس سیٹلمنٹ کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اب دکانداروں اور تاجروں کو یہ حق مل جائے گا کہ وہ مہنگے کریڈٹ کارڈز استعمال کرنے والے صارفین پر اضافی چارجز عائد کر سکیں یا انہیں سستے کارڈز استعمال کرنے پر راغب کر سکیں۔ امریکی ریٹیلرز ایسوسی ایشنز نے اس عدالتی فیصلے کو آزاد مارکیٹ کی ایک بڑی فتح قرار دیا ہے کیونکہ اس سے قبل ویزا اور ماسٹر کارڈ(visa mastercard) کی اجارہ داری کی وجہ سے چھوٹے کاروبار شدید مالی دباؤ کا شکار تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے صارفین کے خریداری کے رجحان پر بھی اثر پڑے گا اور ڈیجیٹل پیمنٹس کے قوانین میں بڑی تبدیلیاں آئیں گی۔
اگرچہ جج نے اس معاہدے کو ابتدائی طور پر منظور کر لیا ہے، لیکن اس پر حتمی مہر لگنے میں ابھی چند ماہ کا وقت لگ سکتا ہے کیونکہ عدالت اب تمام اسٹیک ہولڈرز اور تاجروں کے اعتراضات کا جائزہ لے گی۔ دوسری طرف ویزا اور ماسٹر کارڈ(visa mastercard) کے اعلیٰ حکام نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عدالت کے شکر گزار ہیں اور یہ تصفیہ کاروباری برادری کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ وال اسٹریٹ کے سرمایہ کار بھی اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اس فیس کی کمی سے کمپنیوں کے مستقبل کے ریونیو ماڈل پر اثر پڑ سکتا ہے۔
ویزا اور ماسٹر کارڈ(visa mastercard) کا 38 ارب ڈالر کا فیس تصفیہ امریکی کارپوریٹ تاریخ کے سب سے بڑے فیصلوں میں سے ایک بن چکا ہے۔ جج کی جانب سے ملنے والی اس ابتدائی منظوری نے ریٹیل سیکٹر کو ایک بہت بڑا ریلیف فراہم کیا ہے، جس سے مارکیٹ میں صحت مند مسابقت کو فروغ ملے گا۔ اگرچہ آنے والے وقت میں اس معاہدے کے مکمل نفاذ کے لیے مزید قانونی مراحل باقی ہیں، لیکن موجودہ حالات میں اس فیصلے نے فنانشل ورلڈ کی دو بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری کو محدود کر کے چھوٹے تاجروں کے حقوق کا تحفظ کیا ہے۔

