Ursa Major Mystery Solved: Russian Nuclear Ship Sunk to Block North Korea Deal

Ursa Major Mystery Solved: Russian Nuclear Ship Sunk to Block North Korea Deal

 بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی جانب سے منظرِ عام پر آنے والی ایک تہلکہ خیز رپورٹ کے مطابق، بحیرہ روم میں غرق ہونے والا روسی بحری جہاز ارسا میجر (Ursa Major) دراصل شمالی کوریا کے لیے انتہائی حساس جوہری ٹیکنالوجی منتقل کر رہا تھا۔ تازہ ترین تفصیلات کے مطابق، ہسپانوی حکام کی تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس جہاز پر ایٹمی آبدوزوں میں استعمال ہونے والے دو ری ایکٹرز موجود تھے، جنہیں خفیہ طور پر شمالی کوریا کی بندرگاہ 'راسن' (Rason) پہنچایا جانا تھا۔

Ursa Major Mystery Solved: Russian Nuclear Ship Sunk to Block North Korea Deal

تحقیقات کے مطابق، یہ واقعہ دسمبر 2024 میں پیش آیا تھا لیکن اسے طویل عرصے تک صیغہ راز میں رکھا گیا۔ جہاز کے کپتان نے ابتدائی طور پر کارگو کو "مین ہول کور" قرار دے کر چھپانے کی کوشش کی، لیکن بعد ازاں اعتراف کیا کہ یہ ایٹمی ری ایکٹرز کے اجزاء تھے۔ دفاعی ماہرین کا شبہ ہے کہ ایک نیٹو (NATO) رکن ملک نے اس حساس ٹیکنالوجی کو کم جونگ اون کے دورِ حکومت تک پہنچنے سے روکنے کے لیے ایک خاص قسم کے ٹارپیڈو (Barracuda torpedo) کے ذریعے جہاز کو نشانہ بنایا، جس سے انجن روم کے قریب دھماکے ہوئے اور جہاز ڈوب گیا۔


جنگ (Jang) اور دیگر علاقائی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق، روسی کمپنی 'اوبورون لاجسٹکس' نے اس واقعے کو ایک "ٹارگٹڈ دہشت گردانہ حملہ" قرار دیا ہے۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ جہاز کے ڈوبنے کے بعد بھی روسی جاسوس بحری جہازوں نے اس مقام پر مشکوک سرگرمیاں جاری رکھیں اور ملبے کے قریب مزید دھماکے بھی ریکارڈ کیے گئے، جن کا مقصد غالباً حساس شواہد کو مٹانا تھا۔ امریکی جوہری ماہرین کے طیاروں نے بھی اس علاقے کی فضاؤں میں ریڈی ایشن لیول چیک کرنے کے لیے پروازیں کی ہیں۔


یہ پراسرار واقعہ روس اور شمالی کوریا کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے حال ہی میں اپنی پہلی ایٹمی آبدوز کی نمائش بھی اسی ممکنہ ٹیکنالوجی کی منتقلی کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ ارسا میجر کا بحیرہ روم کی 2,500 میٹر گہرائی میں غرق ہونا عالمی سیاست میں ایک بڑا موڑ ثابت ہوا ہے، جس نے ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔