ٹیکساس کی ایک عدالت نے سات سالہ بچی ایتھینا اسٹراینڈ کے اغوا اور قتل کے سنگین جرم میں سابق فیڈ ایکس (FedEx) ڈرائیور ٹینر ہارنر (Tanner Horner) کو سزائے موت سنا دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، جیوری نے طویل سماعت کے بعد ملزم کو معصوم بچی کے لرزہ خیز قتل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اسے سخت ترین سزا دینے کی سفارش کی۔ اس فیصلے نے نہ صرف مقتولہ کے خاندان کو انصاف فراہم کیا ہے بلکہ پورے امریکہ میں ایک بار پھر سزائے موت کے حوالے سے بحث چھیڑ دی ہے۔
نیویارک ٹائمز (New York Times) کی رپورٹ کے مطابق، یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب ٹینر ہارنر (Tanner Horner) بچی کے گھر کرسمس کا تحفہ ڈیلیور کرنے گیا تھا، جہاں اس نے بچی کو اغوا کیا اور بعد ازاں بے رحمی سے قتل کر دیا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے ٹھوس شواہد اور ملزم کے اعترافی بیان کو پیش کیا، جس میں اس نے تسلیم کیا تھا کہ اس نے پکڑے جانے کے خوف سے بچی کا گلا گھونٹ کر اسے مار دیا تھا۔ عدالتی کارروائی کے دوران بچی کے والدین کے جذباتی بیانات نے کمرہ عدالت میں موجود ہر شخص کی آنکھیں نم کر دیں۔
این بی سی نیوز (NBC News) کی رپورٹ کے مطابق، ٹینر ہارنر (Tanner Horner) کے وکلاء نے اس کی ذہنی حالت اور ماضی کے حالات کو بنیاد بنا کر عمر قید کی استدعا کی تھی، تاہم جیوری نے جرم کی نوعیت اور بربریت کو مدنظر رکھتے ہوئے سزائے موت کے حق میں فیصلہ دیا۔ سی این این (CNN) کا کہنا ہے کہ اس کیس نے ڈیلیوری کمپنیوں کے حفاظتی پروٹوکولز اور ملازمین کی جانچ پڑتال (Background Check) کے نظام پر بھی بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ فیصلے کے بعد ایتھینا کی والدہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ان کی بیٹی واپس نہیں آ سکتی، لیکن قاتل کو اس کے انجام تک پہنچتے دیکھ کر انہیں دلی سکون ملا ہے۔
ٹینر ہارنر (Tanner Horner) کو ملنے والی سزائے موت مئی 2026 کا ایک بڑا عدالتی فیصلہ ثابت ہوا ہے۔ معصوم ایتھینا اسٹراینڈ کے بہیمانہ قتل نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا، اور اب قانون نے اپنا راستہ بناتے ہوئے مجرم کو اس کے منطقی انجام تک پہنچا دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ معصوم بچوں کے خلاف ہونے والے سنگین جرائم میں کسی قسم کی رعایت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اب تمام نظریں سزا پر عملدرآمد کے قانونی مراحل پر لگی ہیں، جبکہ کمیونٹی اب بھی اس صدمے سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی ہے۔

