امریکی شہر لاس اینجلس کی سیاست میں اس وقت ایک دلچسپ موڑ دیکھنے کو ملا جب ریٹیلٹی ٹی وی اسٹار اسپینسر پراٹ (Spencer Pratt) نے میئر کے عہدے کے لیے اپنی انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ رپورٹس کے مطابق، اسپینسر پراٹ کی ایک مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ انتخابی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس نے روایتی سیاستدانوں اور عوام کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ اس مہم نے ثابت کر دیا ہے کہ جدید دور میں ٹیکنالوجی کس طرح انتخابی مہمات کا رخ بدل سکتی ہے۔
این بی سی نیوز (NBC News) کی رپورٹ کے مطابق، وائرل ہونے والی اے آئی ویڈیو میں اسپینسر پراٹ (Spencer Pratt) کو شہر کے سنگین مسائل، جیسے کہ بے گھری اور جرائم کی شرح میں اضافے پر بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، لیکن اسے ایک انتہائی جدید اور تخلیقی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ دی گارڈین (The Guardian) کا کہنا ہے کہ اسپینسر پراٹ کی اس مہم نے لاس اینجلس کے نوجوان ووٹرز میں خاصی مقبولیت حاصل کی ہے، جو روایتی سیاسی وعدوں سے اکتا چکے ہیں۔ فوکس نیوز (Fox News) کے تجزیے کے مطابق، اگرچہ اسپینسر پراٹ کو ایک غیر روایتی امیدوار سمجھا جا رہا ہے، لیکن ان کی سوشل میڈیا پر موجودگی اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انہیں دیگر امیدواروں پر برتری دلا سکتا ہے۔
اسپینسر پراٹ (Spencer Pratt) نے اپنی مہم کے دوران اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ لاس اینجلس کو ایک جدید اور ٹیکنالوجی سے لیس شہر بنائیں گے۔ ان کا ماننا ہے کہ اے آئی کا استعمال نہ صرف انتخابی مہم بلکہ حکومتی امور میں بھی شفافیت اور بہتری لا سکتا ہے۔ مئی 2026 کی ان رپورٹس نے سیاست میں مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال پر بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جہاں یہ ٹیکنالوجی پیغام پہنچانے میں مددگار ہے، وہیں اس کے ذریعے غلط معلومات پھیلنے کا خدشہ بھی موجود رہتا ہے، تاہم اسپینسر کی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ ان کی مہم مکمل طور پر حقائق پر مبنی ہے۔
اسپینسر پراٹ (Spencer Pratt) کی میئر کے لیے مہم مئی 2026 کی سب سے زیادہ زیرِ بحث سیاسی خبر بن چکی ہے۔ ان کی اے آئی ویڈیو نے دکھا دیا ہے کہ مستقبل کی سیاست کیسی ہو سکتی ہے۔ لاس اینجلس کے شہری اب یہ دیکھ رہے ہیں کہ کیا ایک ریئلٹی ٹی وی اسٹار اپنی ڈیجیٹل مقبولیت کو ووٹوں میں تبدیل کر پائے گا یا نہیں۔ آنے والے مہینوں میں ہونے والے انتخابات اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا لاس اینجلس کے عوام اسپینسر پراٹ کے جدید وژن کو قبول کرتے ہیں یا روایتی قیادت پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔

