اسپین کے سوشل سیکیورٹی کے نظام (seguridad social) نے 55 سال سے زائد عمر کے ان افراد کے لیے ایک بڑی رعایت کا اعلان کیا ہے جو مستقل معذوری (Incapacidad Permanente) کا شکار ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، حکومت نے ایسے افراد کی پنشن میں 20 فیصد اضافے کی منظوری دی ہے جو اپنی عمر کی وجہ سے نئی ملازمت تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ تاہم، اس قانون میں ایک اہم شرط یہ رکھی گئی ہے کہ اگر متاثرہ شخص دوبارہ کسی قسم کا روزگار حاصل کر لیتا ہے، تو وہ اس اضافی رقم سے محروم ہو جائے گا۔
'ڈائریو سور' (Diario SUR) کی رپورٹ کے مطابق، حال ہی میں ایک لیبارٹری ٹیکنیشن نے عدالت کے ذریعے مستقل معذوری کی پنشن حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، جس نے نظام میں موجود پیچیدگیوں کو دور کرنے کی راہ ہموار کی ہے۔ اسی طرح، 'ٹودو ڈسکا' (Todo Disca) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہسپانوی عدالتِ عالیہ نے ایک 50 سالہ خاتون کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے اسے 1,360 یورو ماہانہ پنشن دینے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلے ظاہر کرتے ہیں کہ (seguridad social) کے تحت معذوری کے دعوؤں کو اب زیادہ ہمدردی اور قانونی تحفظ کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔
سوشل سیکیورٹی (seguridad social) کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 55 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے یہ 20 فیصد اضافی رقم ایک "سوشل سیفٹی نیٹ" کا کام کرے گی، کیونکہ اس عمر میں جسمانی معذوری کے ساتھ دوبارہ محنت مزدوری کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ ایل اکانومسٹا (El Economista) کی رپورٹ کے مطابق، یہ اقدام معمر کارکنوں کی مالی حالت کو مستحکم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے، لیکن ملازمت ملنے کی صورت میں اس اضافے کی واپسی کا قانون اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ حکومتی فنڈز صرف ضرورت مندوں تک پہنچیں۔ مئی 2026 کے یہ قوانین اسپین میں فلاحی ریاست کے تصور کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔
ہسپانوی سوشل سیکیورٹی (seguridad social) میں کی جانے والی یہ ترامیم اور عدالتی فیصلے معذور افراد کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے مئی 2026 کا ایک بڑا سنگِ میل ہیں۔ جہاں ایک طرف عدالتیں انفرادی کیسز میں انصاف فراہم کر رہی ہیں، وہیں حکومت کی نئی پالیسیاں پنشنرز کے لیے معاشی آسانی پیدا کر رہی ہیں۔ اب تمام نظریں اس بات پر ہیں کہ ان قوانین کے نفاذ سے معذور افراد کی زندگیوں پر کیا مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور کیا (seguridad social) کا ادارہ مستقبل میں مزید ایسے مراعاتی پیکجز متعارف کرائے گا یا نہیں۔

