مصنوعی ذہانت کی عالمی مارکیٹ میں ایک بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے کیونکہ openai anthropic service companies کے طور پر ابھر رہی ہیں۔رپورٹس کے مطابق، یہ دونوں کمپنیاں محض سافٹ ویئر فراہم کرنے کے بجائے اب کارپوریٹ اداروں کو براہ راست اے آئی سروسز اور کنسلٹنسی فراہم کرنے کی طرف پیش قدمی کر رہی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد بڑی کمپنیوں کو ان کے مخصوص کاروباری ڈھانچے کے مطابق اے آئی ماڈلز تیار کرنے اور انہیں نافذ کرنے میں مدد دینا ہے، جو کہ ایک نیا منافع بخش کاروباری ماڈل بن کر ابھر رہا ہے۔
رائٹرز (Reuters) کی رپورٹ کے مطابق، باوثوق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اوپن اے آئی اور اینتھروپک اب اے آئی سروسز فراہم کرنے والی چھوٹی کمپنیوں کو خریدنے (Acquisition) کے لیے مذاکرات کر رہی ہیں۔ یہ حکمت عملی واضح کرتی ہے کہ openai anthropic service companies اب صرف ٹیکنالوجی بنانے تک محدود نہیں رہنا چاہتیں بلکہ وہ اینڈ ٹو اینڈ سلوشنز فراہم کرنا چاہتی ہیں۔ اس سے قبل یہ کمپنیاں صرف اپنے API تک رسائی دیتی تھیں، لیکن اب وہ کمپنیوں کے اندرونی ڈیٹا اور آپریشنز کو اے آئی کے ذریعے بہتر بنانے کے لیے اپنی ٹیمیں بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہیں، جس سے انٹرپرائز اے آئی مارکیٹ میں مقابلہ مزید سخت ہو جائے گا۔
انڈیا ٹوڈے (India Today) کی ایک تجزیاتی رپورٹ میں اس پیش رفت کو بھارتی آئی ٹی سیکٹر کے لیے ایک "خوشخبری" قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب openai anthropic service companies عالمی سطح پر اے آئی سروسز کا دائرہ بڑھائیں گی، تو انہیں نفاذ (Implementation) اور سپورٹ کے لیے بھارتی آئی ٹی کمپنیوں جیسے TCS، Infosys اور Wipro کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔ اس شراکت داری سے بھارت میں اے آئی سے متعلق ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور بھارتی کمپنیوں کو عالمی سطح پر جدید ترین اے آئی ٹیکنالوجی کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملے گا۔ مئی 2026 کی یہ خبریں عالمی ٹیک انڈسٹری میں ایک نئے اشتراک کا اشارہ دے رہی ہیں۔
openai anthropic service companies کے طور پر سامنے آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مصنوعی ذہانت اب تجرباتی مرحلے سے نکل کر عملی اطلاق کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ اینتھروپک نے اپنی 'انٹرپرائز اے آئی سروسز کمپنی' کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے تاکہ وہ اپنے حریف اوپن اے آئی کو سخت ٹکر دے سکے۔ یہ تبدیلی نہ صرف ان کمپنیوں کے ریونیو میں اضافہ کرے گی بلکہ دنیا بھر کے کاروباری اداروں کو اے آئی اپنانے میں آسانی فراہم کرے گی۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ یہ ٹیک جائنٹس کس طرح اپنی سروسز کو عالمی سطح پر پھیلاتے ہیں اور اس سے روایتی آئی ٹی کنسلٹنسی کا مستقبل کیا شکل اختیار کرتا ہے۔

