لاہور کی قانونی برادری میں اس وقت شدید بے چینی پائی جا رہی ہے کیونکہ lahore bar association کے عہدیداروں نے بائیومیٹرک تصدیق کے نئے نظام کی سخت مخالفت کر دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، وکلاء کا موقف ہے کہ بائیومیٹرک تصدیق کا عمل سائلین اور قانونی چارہ جوئی کرنے والوں کے لیے مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ بار ایسوسی ایشن نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ ملک گیر احتجاج کی کال دینے پر مجبور ہوں گے۔
ایکسپریس ٹریبیون (The Express Tribune) کی رپورٹ کے مطابق، بار لیڈرز نے نہ صرف بائیومیٹرک نظام بلکہ وفاقی آئینی عدالت (FCC) کے خاتمے کا بھی پرزور مطالبہ کیا ہے۔ lahore bar association کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات عدلیہ کی آزادی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ وکلاء کی جانب سے یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت عدالتی اصلاحات کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے، لیکن قانونی ماہرین اسے عدلیہ کی خودمختاری میں مداخلت قرار دے رہے ہیں۔
ڈان نیوز (Dawn News) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاہور کے وکلاء نے ان مطالبات کے حق میں عدالتوں کا بائیکاٹ بھی کیا، جس سے عدالتی نظام میں تعطل پیدا ہوا۔ lahore bar association نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسی تبدیلی کو قبول نہیں کریں گے جو سائلین کے حقوق یا وکلاء کے وقار کے خلاف ہو۔ مئی 2026 کی یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ بار اور بینچ کے درمیان تناؤ بڑھ رہا ہے، اور وکلاء تنظیمیں اپنے تحفظات کو دور کروانے کے لیے ہر ممکن حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔
lahore bar association کی جانب سے بائیومیٹرک سسٹم اور ایف سی سی کی مخالفت مئی 2026 کا ایک اہم قانونی مسئلہ بن چکا ہے۔ وکلاء رہنماؤں کا عزم ہے کہ وہ عدالتی وقار اور عوام کے بہترین مفاد میں اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ حکومت اور عدالتی حکام کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ کس طرح وکلاء کے خدشات کو دور کرتے ہیں تاکہ عدالتی نظام کی روانی متاثر نہ ہو۔ آنے والے دنوں میں بار ایسوسی ایشن کے جنرل ہاؤس کا اجلاس متوقع ہے جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا حتمی اعلان کیا جائے گا۔

