امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں مئی 2026 کے دوران معاشی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، وائٹ ہاؤس فیڈرل ریزرو کے موجودہ چیئرمین جیروم پاول (Jerome Powell) کی جگہ نئے ناموں پر غور کر رہا ہے۔ معاشی مشیر کیون ہاسیٹ اور سابق فیڈرل گورنر کیون وارش کے نام اس عہدے کے لیے نمایاں طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ اس ممکنہ تبدیلی کا مقصد امریکی معاشی پالیسیوں کو ٹرمپ انتظامیہ کے وژن کے مطابق ڈھالنا ہے۔
نیویارک پوسٹ (New York Post) کی 11 مئی 2026 کی لائیو اپ ڈیٹس کے مطابق، واشنگٹن میں اس وقت ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ اور کانگریس کے درمیان ایران کے خلاف فوجی کارروائی اور اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے مسلسل مذاکرات جاری ہیں۔ مئی 2026 کے دوسرے ہفتے کے دوران ہونے والی یہ پیش رفت عالمی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہے، جس کی وجہ سےجیروم پاول (Jerome Powell) اور فیڈرل ریزرو کی ذمہ داریاں مزید حساس ہو گئی ہیں۔
بٹ گیٹ (Bitget) اور معاشی ماہرین کے تجزیوں کے مطابق، جیروم پاول (Jerome Powell) کے مستقبل کے حوالے سے بے یقینی نے کرپٹو کرنسی اور اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ پیدا کر دیا ہے۔ سرمایہ کار اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا نئی تقرری سے شرحِ سود (Interest Rates) میں کمی آئے گی یا سخت پالیسیاں برقرار رکھی جائیں گی۔ مئی 2026 کی یہ سیاسی گہما گہمی نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی مالیاتی نظام کے لیے بھی ایک بڑا امتحان ثابت ہو رہی ہے، جہاں ایران کے ساتھ تنازع معاشی استحکام کے لیے نیا خطرہ بن کر ابھرا ہے۔
جیروم پاول (Jerome Powell) کی قیادت اور ٹرمپ انتظامیہ کے معاشی اہداف مئی 2026 میں ایک مشکل موڑ پر ہیں۔ ایک طرف اندرونی سطح پر فیڈرل ریزرو کی قیادت کی تبدیلی کی بحث ہے، تو دوسری طرف ایران کے ساتھ جنگ کے خدشات نے امریکہ کی خارجہ پالیسی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آنے والے چند دن اس حوالے سے انتہائی اہم ہوں گے کہ صدر ٹرمپ معیشت کو مستحکم کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کے لیے کیا حتمی فیصلے کرتے ہیں۔ عالمی برادری ان تمام تبدیلیوں کو گہری دلچسپی اور تشویش کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔

