امریکی ٹیکس دہندگان کے لیے ایک اہم اور ہنگامی خبر سامنے آئی ہے جہاں انٹرنل ریونیو سروس (Internal Revenue Service) نے کووڈ-19 کے دور کے اربوں ڈالر کے غیر کلیم شدہ ٹیکس ریفنڈز حاصل کرنے کے لیے حتمی ڈیڈ لائن کا اعلان کر دیا ہے۔ٹیکس دہندگان کے تحفظ کے ادارے (NTA) کی رپورٹس کے مطابق، لاکھوں امریکی اب بھی اپنے واجب الادا رقم سے محروم ہیں، اور اگر انہوں نے مقررہ وقت تک اپنی درخواستیں جمع نہ کرائیں تو یہ رقم ہمیشہ کے لیے سرکاری خزانے میں چلی جائے گی۔
یو ایس اے ٹوڈے (USA Today) کی رپورٹ کے مطابق، انٹرنل ریونیو سروس (Internal Revenue Service) نے ان ریفنڈز کے حصول کے لیے 10 جولائی 2026 کی تاریخ مقرر کی ہے۔ یہ ریفنڈز بنیادی طور پر 2020 اور 2021 کے ٹیکس سالوں سے متعلق ہیں، جن کے دوران حکومت نے کووڈ ریلیف کے تحت مختلف مراعات کا اعلان کیا تھا۔ وال اسٹریٹ جنرل (WSJ) کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی لاکھوں امریکی ایسے ہیں جنہوں نے اس دور میں اپنی ٹیکس ریٹرنز فائل نہیں کی تھیں، جس کی وجہ سے وہ اپنی قانونی رقم وصول کرنے سے قاصر ہیں۔
ٹیکس پیئر ایڈووکیٹ سروس (NTA) کے بلاگ کے مطابق، کروڑوں ٹیکس دہندگان نمایاں ریفنڈز کے اہل ہو سکتے ہیں، جن میں اوسطاً فی کس رقم سینکڑوں بلکہ ہزاروں ڈالرز تک ہو سکتی ہے۔انٹرنل ریونیو سروس (Internal Revenue Service) کے حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے سابقہ ریکارڈز چیک کریں اور کسی ماہرِ ٹیکس سے مشورہ کریں تاکہ اس موقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ یہ رقم ان خاندانوں کے لیے ایک بڑی مالی مدد ثابت ہو سکتی ہے جو موجودہ مہنگائی کے دور میں مشکلات کا شکار ہیں۔
انٹرنل ریونیو سروس (Internal Revenue Service) کی جانب سے دی گئی یہ مہلت امریکی شہریوں کے لیے اپنی رکی ہوئی رقم حاصل کرنے کا آخری موقع ہے۔ مئی 2026 کی یہ رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ حکومت اب اس باب کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اگر آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا اس دور میں ٹیکس فائل کرنے سے رہ گیا تھا، تو 10 جولائی سے پہلے کارروائی کرنا لازمی ہے۔ بصورتِ دیگر، قانون کے مطابق تین سال کی مدت ختم ہونے پر ریفنڈ کلیم کرنے کا حق ختم ہو جائے گا۔

