Iran Crisis 2026: US Forces Strike Iranian Military Facilities Amid Hormuz Tensions

Iran Crisis 2026: US Forces Strike Iranian Military Facilities Amid Hormuz Tensions

مشرق وسطیٰ میں صورتحال اس وقت انتہائی سنگین ہو گئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی محاذ آرائی میں اچانک شدت آگئی ہے۔  رپورٹس کے مطابق، امریکی افواج نے ایران کے اندر متعدد فوجی تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔ یہ کارروائی ان ایرانی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے جنہیں امریکی فوج نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں ناکام بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ ان واقعات نے خطے میں جاری امن کی کوششوں اور ممکنہ "ہرمز پیس ڈیل" پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے، جس کی بازگشت عالمی سطح پر iran  کے حوالے سے سنائی دے رہی ہے۔

Iran Crisis 2026: US Forces Strike Iranian Military Facilities Amid Hormuz Tensions

سی این این (CNN) کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر کے حکم پر امریکی افواج نے ایران کے ان فوجی مراکز کو نشانہ بنایا ہے جن کے بارے میں شبہ تھا کہ وہ خلیج میں بحری جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔ دوسری جانب، بوسٹن گلوب (Boston Globe) کا کہنا ہے کہ ایرانی حملوں کو روکنے کے لیے امریکی مداخلت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ iran  اور امریکہ کے درمیان یہ براہِ راست ٹکراؤ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب عالمی طاقتیں خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف تھیں۔


نیویارک ٹائمز (NYT) کی لائیو کوریج کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور ایرانی حکام کے درمیان کسی ممکنہ امن معاہدے کی امیدیں اب دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔ آبنائے ہرمز، جو کہ عالمی تیل کی تجارت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اس وقت جنگی زون میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ iran  کی جانب سے کسی بھی ردِعمل کی صورت میں صورتحال علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ عالمی برادری نے دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے، تاہم زمین پر موجود صورتحال مسلسل بگڑتی جا رہی ہے۔


iran  اور امریکہ کے درمیان مئی 2026 کا یہ تصادم عالمی سیاست کا سب سے بڑا بحران بن چکا ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ "پیس ڈیل" کی ناکامی کے بعد اب تمام نظریں اقوام متحدہ کے ہنگامی اجلاس پر ہیں تاکہ کسی طرح مزید خونریزی کو روکا جا سکے۔ آبنائے ہرمز میں فوجی نقل و حرکت اور ایران کے اندر ہونے والے فضائی حملوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ خطہ ایک بار پھر بڑی جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ آنے والے چند گھنٹے اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا یہ کشیدگی مذاکرات کی میز پر حل ہوتی ہے یا بارود کے دھوئیں میں چھپ جاتی ہے۔