مئی 2026 کے آغاز میں مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید بحران کی لپیٹ میں ہے کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے بادل گہرے ہو گئے ہیں۔ تازہ ترین ایران نیوز (iran news) کے مطابق، آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں اور ایران کی جانب سے نئی دھمکیوں کے بعد صدر ٹرمپ نے سخت موقف اختیار کر لیا ہے۔ اس کشیدگی نے نہ صرف عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ بین الاقوامی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرنا شروع کر دیے ہیں۔
سی بی ایس نیوز (CBS News) کی لائیو اپڈیٹس کے مطابق، آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی بحری جہاز پر حملے کے بعد خطے میں صورتحال انتہائی دھماکہ خیز ہو گئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، تاہم انہوں نے ایک "امن فارمولا" بھی پیش کیا ہے تاکہ مکمل جنگ سے بچا جا سکے۔ ایران نیوز (iran news) کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی عالمی تجارتی راستوں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے، جس سے پوری دنیا کی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔
سی این بی سی (CNBC) کی رپورٹ کے مطابق، اس سیاسی کشیدگی کا فوری اثر تیل کی عالمی منڈی پر پڑا ہے، جہاں خام تیل (WTI اور Brent) کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں میں خوف پایا جا رہا ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع طول پکڑتا ہے، تو تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں۔ سی این این (CNN) کی ایران نیوز (iran news) کوریج کے مطابق، پینٹاگون نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری یہ حالیہ محاذ آرائی مئی 2026 کا سب سے بڑا جغرافیائی و سیاسی بحران بن چکی ہے۔ جہاں ایک طرف فوجی تصادم کا خطرہ موجود ہے، وہیں دوسری طرف عالمی معیشت کو تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور تجارتی راستوں کی بندش کا ڈر ہے۔ ایران نیوز (iran news) پر نظر رکھنے والے مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے چند دن خطے کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ اب تمام نظریں اس بات پر لگی ہیں کہ کیا صدر ٹرمپ کا امن فارمولا کامیاب ہوتا ہے یا خطہ ایک نئی اور تباہ کن جنگ کی آگ میں جھونک دیا جائے گا۔

