ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی جدت متعارف کرواتے ہوئے گوگل نے اپنا اب تک کا سب سے چھوٹا اور بغیر اسکرین والا فٹنس ٹریکر google fitbit air (فٹ بٹ ایئر) باقاعدہ طور پر لانچ کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، یہ نیا ٹریکر ان صارفین کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو بھاری اسمارٹ واچز کے بجائے ایک ہلکا پھلکا اور مخفی آلہ پسند کرتے ہیں۔ اس لانچنگ کے ساتھ ہی گوگل نے اپنی مشہور فٹ بٹ ایپ کو بھی "گوگل ہیلتھ" (Google Health) کے نام سے ری برانڈ کر دیا ہے، جو اب صارف کی صحت کا تمام ڈیٹا ایک جگہ جمع کرے گی۔
گیجٹس 360 (Gadgets 360) اور گیجٹ میچ کی رپورٹس کے مطابق، google fitbit air کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی اسکرین کا نہ ہونا ہے، جس کی وجہ سے اس کی بیٹری لائف کئی ہفتوں تک برقرار رہ سکتی ہے۔ یہ ٹریکر دل کی دھڑکن، نیند کا معیار، قدموں کی گنتی اور تناؤ (Stress) کی سطح کو مانیٹر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی قیمت اور دستیابی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ ایک سستا اور عام آدمی کی پہنچ میں رہنے والا آلہ ہوگا، جسے کپڑوں کے ساتھ کلپ کیا جا سکتا ہے یا کلائی پر ایک سادہ بینڈ کی صورت میں پہنا جا سکتا ہے۔
فوکس 10 ٹی وی (Fox 10 TV) کی رپورٹ میں "ڈیلی ڈاٹ کام" کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ google fitbit air کا مقصد صحت کی نگرانی کو سادہ بنانا ہے۔ گوگل ہیلتھ ایپ میں منتقلی اس بات کی علامت ہے کہ گوگل اب صحت اور فٹنس کے شعبے میں اپنی تمام سروسز کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کر رہا ہے۔ گوگل کے بلاگ (Google Blog) کے مطابق، فٹ بٹ ایئر میں جدید سینسرز نصب ہیں جو صارف کی جسمانی حرکات کو انتہائی درستگی کے ساتھ نوٹ کرتے ہیں اور ڈیٹا کو وائرلیس طریقے سے اسمارٹ فون پر منتقل کر دیتے ہیں۔
google fitbit air مئی 2026 کی ایک اہم ترین ویئرایبل ٹیکنالوجی ہے جو کم سے کم ڈیزائن اور زیادہ سے زیادہ کارکردگی پر یقین رکھتی ہے۔ بغیر اسکرین والے ٹریکرز کی واپسی نے اسمارٹ واچز کی مارکیٹ میں ایک نیا رجحان پیدا کر دیا ہے۔ گوگل کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کو صارف کی زندگی میں بوجھ بنانے کے بجائے اسے خاموشی سے پسِ منظر میں کام کرنے والا معاون بنانا چاہتا ہے۔ فٹنس کے شوقین افراد اب اس چھوٹے سے مگر طاقتور ٹریکر کی سیل شروع ہونے کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔

