پاکستان کے معاشی منظر نامے میں مئی 2026 کے دوران ٹیکس اصلاحات اور تاجر برادری کے تحفظات کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، ایف بی آر (FBR) کے چیئرمین نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بزنس کمیونٹی کو انکم ٹیکس (income tax) کی وصولی اور دیگر ریونیو معاملات میں ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس ملاقات کا مقصد ٹیکس گزاروں اور حکام کے درمیان اعتماد کے فقدان کو ختم کرنا ہے۔
ڈیلی ٹائمز (Daily Times) کی رپورٹ کے مطابق، ایف بی آر کے چیئرمین نے واضح کیا کہ حکومت کی ترجیح ٹیکس کے دائرہ کار کو وسیع کرنا ہے نہ کہ پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر بوجھ بڑھانا۔ انہوں نے ایل سی سی آئی (LCCI) کے اراکین کو بتایا کہ انکم ٹیکس (income tax) کے نظام کو ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے تاکہ انسانی مداخلت کو کم سے کم کیا جا سکے اور ٹیکس چوری کو روکا جا سکے۔ مئی 2026 کی ان کوششوں کا مقصد ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جہاں کاروبار آسانی سے پروان چڑھ سکیں اور ملکی ریونیو میں بھی اضافہ ہو۔
بزنس ریکارڈر (Business Recorder) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تاجروں نے آڈٹ نوٹسز اور ریفنڈز کی ادائیگی میں تاخیر جیسے مسائل پر تشویش کا اظہار کیا۔ جس پر ایف بی آر چیئرمین نے یقین دلایا کہ جائزمطالبات کو فوری طور پر حل کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت تاجروں کو قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھتی ہے اور ان کی مشاورت کے بغیر کوئی نیا ٹیکس نافذ نہیں کیا جائے گا۔ مئی 2026 کے دوران ہونے والے ان مذاکرات سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ آنے والے وفاقی بجٹ میں بزنس فرینڈلی پالیسیاں متعارف کروائی جائیں گی۔
ایف بی آر اور تاجر برادری کے درمیان مئی 2026 کے یہ روابط انکم ٹیکس (income tax) کے نظام میں شفافیت لانے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ایل سی سی آئی کے پلیٹ فارم سے دی گئی تجاویز کو پالیسی سازی کا حصہ بنانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ماہرینِ معیشت کا ماننا ہے کہ اگر ایف بی آر ان یقین دہانیوں پر عمل درآمد کرتا ہے تو نہ صرف ٹیکس نیٹ بڑھے گا بلکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہوگا، جو ملک کی پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

