بھارتی سینما کی مقبول ترین تھرلر فرنچائز دریشیم 3 (drishyam 3) کا جادو ایک بار پھر سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ انڈیا ہیرالڈ، مڈ ڈے اور ٹائمز آف انڈیا کی مئی 2026 کی رپورٹس کے مطابق، فلم کے تیسرے حصے کے ٹیزر نے ریلیز ہوتے ہی انٹرنیٹ پر دھوم مچا دی ہے۔ موہن لال ایک بار پھر اپنے شہرہ آفاق کردار 'جارج کٹی' کے روپ میں واپس آ رہے ہیں، اور ٹیزر نے محض چند گھنٹوں میں ہی یوٹیوب پر لاکھوں ویوز حاصل کر کے ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مداح اس سسپنس سے بھرپور کہانی کے اگلے باب کا کتنی بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔
مڈ ڈے (Mid-day) کی رپورٹ کے مطابق، دریشیم 3 (drishyam 3) کا ٹیزر اس بار مزید پراسرار اور پیچیدہ کہانی کی جھلک پیش کرتا ہے۔ موہن لال کی جاندار اداکاری اور جارج کٹی کا اپنے خاندان کو بچانے کا وہی پرانا عزم مداحوں کے دل جیت رہا ہے۔ دوسری جانب، ٹائمز آف انڈیا (Times of India) نے ایک دلچسپ بحث کا ذکر کیا ہے جس میں فلم کی اداکارہ ایستھر انیل نے موہن لال کے مشہور زمانہ 'انٹروگیشن سین' کے بارے میں بیان دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جو گہرائی اور تاثر موہن لال نے اصل فلم میں پیش کیا، وہ تیلگو ری میک میں وینکٹیش بھی دوبارہ پیدا نہیں کر سکے، جس پر سوشل میڈیا پر مداحوں کے درمیان نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
انڈیا ہیرالڈ (India Herald) کی رپورٹ کے مطابق،دریشیم 3 (drishyam 3) کی کہانی اس بار بین الاقوامی معیار کے مطابق ترتیب دی گئی ہے، اور کہا جا رہا ہے کہ یہ فرنچائز کا آخری اور سب سے دھماکہ خیز حصہ ہوگا۔ فلم کی شوٹنگ مکمل ہو چکی ہے اور اب یہ پوسٹ پروڈکشن کے آخری مراحل میں ہے۔ فلم کی ٹیم نے اس بار سسپنس کو برقرار رکھنے کے لیے اسکرپٹ کو انتہائی خفیہ رکھا ہے تاکہ شائقین سینما گھروں میں حیران رہ جائیں۔ ایڈوانس بکنگ کے حوالے سے بھی توقع کی جا رہی ہے کہ یہ ملیالم سینما کی تاریخ کی سب سے بڑی فلم ثابت ہوگی۔
دریشیم 3 (drishyam 3) نے اپنی پہلی جھلک سے ہی ثابت کر دیا ہے کہ یہ 2026 کی سب سے بڑی انڈین فلموں میں سے ایک ہوگی۔ موہن لال کی بے مثال اداکاری اور ڈائریکٹر جیتو جوزف کا ماسٹر مائنڈ اسکرپٹ ایک بار پھر شائقین کو دانتوں تلے انگلیاں دبانے پر مجبور کر دے گا۔ ایستھر انیل کے بیان نے فلم کے حوالے سے تجسس کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا جارج کٹی اس بار بھی قانون کی گرفت سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوتا ہے یا پولیس اس کا کوئی ایسا کمزور پہلو ڈھونڈ نکالے گی جو اب تک چھپا ہوا تھا۔

