پاکستان کی معروف ڈراما اداکارہ مومنہ اقبال (Momina Iqbal) کو ہراساں کیے جانے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے کے کیس میں مئی 2026 کے دوران ایک بڑی سیاسی اور قانونی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ کسی بھی بااثر شخصیت کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایکسپریس ٹریبیون (The Express Tribune) کی رپورٹ کے مطابق، اداکارہ مومنہ اقبال (Momina Iqbal) نے سوشل میڈیا اور میڈیا چینلز کے ذریعے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے انصاف کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں اور ان کے خاندان کو شدید ہراساں کیا جا رہا ہے اور مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ اس سنگین صورتحال کے بعد، مئی 2026 میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے فوری ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اداکارہ کو مکمل تحفظ فراہم کرنے اور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا پکا عزم ظاہر کیا، جس سے شوبز برادری میں اطمینان کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ڈان نیوز (Dawn Images) کی رپورٹ کے مطابق، اس کیس کا رخ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب اس میں سیاسی اثر و رسوخ کے استعمال کی کوششیں سامنے آئیں۔ وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے رکنِ صوبائی اسمبلی (MPA) ثاقب چدھڑ اور مومنہ اقبال (Momina Iqbal) کے اس ہراساں کرنے والے کیس میں کسی بھی قسم کے سیاسی دباؤ کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو سخت الفاظ میں وارننگ دی ہے کہ اگر کسی نے بھی اس کیس پر اثر انداز ہونے یا سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرنے کی کوشش کی، تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مومنہ اقبال (Momina Iqbal) ہراسانی کیس مئی 2026 میں پاکستان کے شوبز اور سیاسی حلقوں میں سب سے بڑی خبر بن چکا ہے۔ اے آر وائی نیوز (ARY News) کے مطابق، مریم نواز کے اس فوری اور کڑے ایکشن کو خواتین کے تحفظ اور معاشرے سے ہراسانی کے خاتمے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ شوبز انڈسٹری کے نامور ستاروں نے بھی مومنہ اقبال (Momina Iqbal) کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس کیس کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ آئندہ کوئی بھی کسی خاتون کو اس طرح نشانہ بنانے کی جرات نہ کر سکے۔

