کراچی کی ضلعی انتظامیہ نے مئی 2026 کے 'عورت مارچ' (aurat march)کے انعقاد کے لیے باضابطہ طور پر اجازت نامہ (NOC) جاری کر دیا ہے۔ نیوز کی رپورٹس کے مطابق، سندھ حکومت نے 10 مئی 2026 کو کراچی میں مارچ نکالنے کی مشروط اجازت دی ہے۔ تاہم، اس بار انتظامیہ نے سیکیورٹی اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے 28 سخت شرائط عائد کی ہیں، جن پر عمل درآمد کرنا منتظمین کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون (The Express Tribune) کی رپورٹ کے مطابق، کراچی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ 28 شرائط میں سب سے اہم شرط متنازع نعروں اور پوسٹرز پر پابندی ہے۔ این او سی کے مطابق، شرکاء کو کسی بھی ایسی سرگرمی سے گریز کرنا ہوگا جو مذہبی یا سماجی جذبات کو مجروح کرے۔ اس کے علاوہ، مارچ کے روٹ اور وقت کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مئی 2026 کے اس 'عورت مارچ' (aurat march) کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
پاکستان ٹوڈے (Pakistan Today) اور 24 نیوز کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مارچ کے منتظمین نے انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ تمام ضوابط کی پابندی کریں گے۔ این او سی میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مارچ کے دوران لاؤڈ اسپیکر کا استعمال مخصوص حدود میں ہوگا اور کسی بھی قسم کے اسلحے کی نمائش پر مکمل پابندی ہوگی۔ سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ پرامن احتجاج اور آزادیِ اظہارِ رائے کے حق کا احترام کرتی ہے، لیکن عوامی تحفظ اور امن و امان کی صورتحال پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
کراچی میں 'عورت مارچ' (aurat march) اب 10 مئی 2026 کو اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق منعقد ہوگا، لیکن یہ اب تک کا سب سے زیادہ مشروط مارچ تصور کیا جا رہا ہے۔ 28 شرائط کی موجودگی نے جہاں منتظمین کے لیے چیلنجز پیدا کیے ہیں، وہیں انتظامیہ کا ماننا ہے کہ یہ شہر کے امن کے لیے ضروری ہے۔ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بحث جاری ہے، جہاں خواتین کے حقوق کے علمبردار اسے ایک اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں، جبکہ مخالف حلقے شرائط پر سختی سے عمل درآمد کے خواہاں ہیں۔ کل کا دن کراچی کی سیاسی اور سماجی فضا کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔

