سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت (AI) اور ایڈیٹنگ کے ذریعے تیار کی گئی گمراہ کن وائرل ویڈیوز (viral videos) کی ایک نئی لہر نے انٹرنیٹ صارفین کو الجھن میں ڈال دیا ہے۔ نیوز رپورٹس کے مطابق، بھارتی حکومت اور پریس انفارمیشن بیورو (PIB) نے متعدد ایسی وائرل ویڈیوز (viral videos) کو جعلی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے جو عوامی نظم و ضبط اور اداروں کے وقار کو نقصان پہنچانے کے لیے پھیلائی جا رہی تھیں۔ ان ویڈیوز میں ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا سہارا لے کر حساس معاملات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔
نیو آن ایئر (News On Air) کی رپورٹ کے مطابق، حکومت نے 'آپریشن سندور' (Operation Sindoor) کے حوالے سے گردش کرنے والی اس ویڈیو کی سختی سے تردید کی ہے جس میں غفلت کے الزامات لگائے گئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو حقائق کے برعکس ہے اور اس کا مقصد سیکیورٹی آپریشنز کی کامیابیوں کو مشکوک بنانا ہے۔ اسی طرح، نیوز چیکر (NewsChecker) نے ایک ایسی وائرل ویڈیوز (viral videos) کا پردہ فاش کیا ہے جس میں مبینہ طور پر ایک فوجی افسر کو حکومت پر تنقید کرتے اور استعفیٰ دیتے دکھایا گیا تھا۔ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ یہ ویڈیو مکمل طور پر "ڈاکٹرڈ" (Doctored) تھی اور آواز کو اے آئی کے ذریعے بدلا گیا تھا۔
دی اسٹیٹسمین (The Statesman) نے ایک اور خطرناک پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پی آئی بی نے جیگوار کریش (Jaguar Crash) کی ایک ویڈیو کے حوالے سے ڈیپ فیک الرٹ جاری کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ ویڈیو سرحد پار پروپیگنڈا مہم کا حصہ تھی تاکہ دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں غلط تاثر پھیلایا جا سکے۔ ان وائرل ویڈیوز (viral videos) کا مقصد سوشل میڈیا صارفین کے جذبات سے کھیلنا اور افراتفری پھیلانا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کی وجہ سے اب اصلی اور نقلی ویڈیوز میں فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، جس کے لیے حکومت نے 'فیکٹ چیک' کے نظام کو مزید فعال کر دیا ہے۔
حالیہ وائرل ویڈیوز (viral videos) کے پیچھے ایک منظم پروپیگنڈا نیٹ ورک کام کر رہا ہے جسے جدید ٹیکنالوجی کی مدد حاصل ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی سنسنی خیز ویڈیو پر یقین کرنے یا اسے آگے شیئر کرنے سے پہلے معتبر خبر رساں اداروں یا سرکاری پورٹلز سے اس کی تصدیق ضرور کریں۔ ڈیجیٹل دور میں 'انفارمیشن وار فیئر' سے بچنے کا واحد راستہ بیداری اور محتاط رویہ ہے۔ حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کا جعلی مواد پھیلانے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

