SBP Monetary Policy 2026: Policy Rate Hiked by 100bps to 11.5% Amid Inflation

SBP Monetary Policy 2026: Policy Rate Hiked by 100bps to 11.5% Amid Inflation

پاکستان کی معاشی صورتحال کے پیشِ نظر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی نئی مانیٹری پالیسی (monetary policy)  کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت بنیادی شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس (1 فیصد) کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔نیوز  رپورٹس کے مطابق، اس اضافے کے بعد پاکستان میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ مرکزی بینک کا یہ فیصلہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کرنے اور معاشی استحکام برقرار رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

SBP Monetary Policy 2026: Policy Rate Hiked by 100bps to 11.5% Amid Inflation

ایکسپریس ٹریبیون (Express Tribune) کی رپورٹ کے مطابق، مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) نے نوٹ کیا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں ایندھن اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں استحکام نہ ہونے کی وجہ سے ملکی سطح پر مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے۔ مانیٹری پالیسی (monetary policy)  میں اس اضافے کا مقصد رقم کی گردش کو محدود کرنا ہے تاکہ طلب میں کمی لائی جا سکے اور قیمتوں کو نیچے لایا جا سکے۔ بزنس ریکارڈر (Business Recorder) نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے حالیہ مذاکرات اور معاشی اصلاحات کے ایجنڈے کے عین مطابق ہے۔


ڈان نیوز (Dawn News) کی رپورٹ کے مطابق، ماہرینِ معیشت کا خیال ہے کہ مانیٹری پالیسی (monetary policy)  میں اس سخت فیصلے سے بینکوں سے قرض لینا مزید مہنگا ہو جائے گا، جس کا براہِ راست اثر صنعتوں اور کاروبار پر پڑے گا۔ تاہم، اسٹیٹ بینک کا موقف ہے کہ طویل مدتی معاشی مفاد کے لیے یہ تلخ فیصلہ ناگزیر تھا۔ مرکزی بینک نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ مستقبل میں مہنگائی کے اعداد و شمار کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پالیسی ریٹ پر نظرِ ثانی کرتا رہے گا تاکہ شرح نمو اور استحکام کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔


اسٹیٹ بینک کی نئی مانیٹری پالیسی (monetary policy)  ملکی معیشت کو ایک نئی سمت دینے کی کوشش ہے۔ اگرچہ شرح سود میں اضافہ کاروباری طبقے کے لیے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے، لیکن عام آدمی کے لیے مہنگائی کی لہر کو روکنے کے لیے یہ ایک اہم دفاعی ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔ اب تمام نظریں آنے والے مہینوں کے افراطِ زر کے ڈیٹا پر لگی ہوئی ہیں، جو یہ طے کرے گا کہ آیا مرکزی بینک مستقبل میں اس پالیسی کو مزید سخت کرے گا یا اس میں نرمی کی گنجائش پیدا ہوگی۔