بجلی کے بھاری بلوں اور روایتی ایئر کنڈیشنرز (AC) سے پریشان صارفین کے لیے ایک انقلابی حل سامنے آیا ہے جسے نسکوڈ کولنگ (nescod cooling) سسٹم کا نام دیا گیا ہے۔نیوز رپورٹس کے مطابق، یہ جدید ٹیکنالوجی بغیر کسی بجلی کے استعمال کے گھروں اور دفاتر کو ٹھنڈا رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ماہرین اسے "روایتی اے سی کا خاتمہ" قرار دے رہے ہیں کیونکہ یہ ماحول دوست ہونے کے ساتھ ساتھ جیب پر بھی بھاری نہیں پڑتا۔
پرو پاکستانی (ProPakistani) کی رپورٹ کے مطابق،نسکوڈ کولنگ (nescod cooling) سسٹم "ریڈی ایٹو کولنگ" (Radiative Cooling) کے اصول پر کام کرتا ہے۔ یہ خاص طور پر تیار کردہ پینلز پر مشتمل ہوتا ہے جو سورج کی تپش کو جذب کرنے کے بجائے اسے واپس خلا میں بھیج دیتے ہیں، جس سے عمارت کا درجہ حرارت باہر کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو جاتا ہے۔ پاکستان ٹوڈے (Pakistan Today) نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ اس سسٹم کو چلانے کے لیے نہ تو بجلی کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی قسم کی وائرنگ کی، جس کا مطلب ہے کہ اب "زیرو بجلی بل" کے ساتھ ٹھنڈک حاصل کرنا ممکن ہوگا۔
اکنامک ٹائمز (Economic Times) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ اس سستی اور بجلی سے پاک ٹیکنالوجی کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ نسکوڈ کولنگ (nescod cooling) نہ صرف انفرادی صارفین بلکہ بڑے صنعتی یونٹس کے لیے بھی ایک بہترین متبادل ثابت ہو رہا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ رات اور دن دونوں وقت یکساں کام کرتی ہے اور فضا میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ پاکستان جیسے گرم ملک میں، جہاں بجلی کے بحران اور مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے، یہ سسٹم ایک بڑی نعمت ثابت ہو سکتا ہے۔
نسکوڈ کولنگ (nescod cooling) ٹیکنالوجی نے ثابت کر دیا ہے کہ مستقبل کی ضرورتیں صرف بجلی پر منحصر نہیں ہیں۔ اس سسٹم کی تنصیب کے بعد روایتی ایئر کنڈیشنرز کی ضرورت ختم ہو سکتی ہے، جس سے نہ صرف قومی گرڈ پر بوجھ کم ہوگا بلکہ عام آدمی کو مہنگے بلوں سے مستقل نجات ملے گی۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ابھی نئی ہے، لیکن اس کی مقبولیت کی رفتار بتاتی ہے کہ آنے والے چند سالوں میں یہ ہر گھر کی ضرورت بن جائے گی۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم مہنگی بجلی کے بجائے قدرت کے فراہم کردہ ان جدید اور سستے حلوں کی طرف قدم بڑھائیں۔

