Trump-Class Battleship Budget Update: Construction Timeline and Navy Leadership Crisis

Trump-Class Battleship Budget Update: Construction Timeline and Navy Leadership Crisis

امریکی دفاعی حلقوں میں اس وقت ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کیونکہ بحریہ نے باضابطہ طور پر نئے ٹرمپ کلاس بیٹل شپ (trump class battleship budget)  کے منصوبے کا اعلان کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ان جدید ترین جنگی جہازوں کی تعمیر کا آغاز مالی سال 2028 (FY28) میں متوقع ہے۔ تاہم، اس منصوبے کے بھاری اخراجات اور دفاعی بجٹ پر اس کے اثرات نے پینٹاگون اور کانگریس کے درمیان ایک تنازع کھڑا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں حال ہی میں سیکرٹری نیوی کو اپنے عہدے سے بھی ہاتھ دھونا پڑا ہے۔

Trump-Class Battleship Budget Update: Construction Timeline and Navy Leadership Crisis

بریکنگ ڈیفنس (Breaking Defense) کی رپورٹ کے مطابق، بحریہ کو توقع ہے کہ پہلے ٹرمپ کلاس بیٹل شپ (trump class battleship budget)  کی تعمیر کا عمل دو سال بعد شروع ہو جائے گا۔ ان جہازوں کو جدید دور کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، لیکن ایکسیوس (Axios) کی رپورٹ بتاتی ہے کہ ان کی لاگت میں مسلسل اضافہ ماہرین کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ وائٹ ہاؤس اور بحریہ کے اعلیٰ حکام کے درمیان اس بجٹ پر ہونے والے اختلافات نے دفاعی پالیسی سازی میں ایک خلا پیدا کر دیا ہے، جس کے اثرات امریکی بحری طاقت پر پڑ سکتے ہیں۔


واشنگٹن پوسٹ (Washington Post) کے ایک تجزیے کے مطابق، سیکرٹری نیوی کی اچانک برطرفی محکمہ دفاع کے اندر گہرے ہوتے ہوئے مسائل کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ برطرفی ایک ایسے وقت میں ہوئی جب ٹرمپ کلاس بیٹل شپ (trump class battleship budget)  جیسے مہنگے منصوبوں پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے دفاعی محکمے میں سیاسی مداخلت بڑھ رہی ہے، جو کہ طویل مدتی فوجی حکمت عملی کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر لگی ہیں کہ آنے والے مہینوں میں کانگریس اس بھاری بجٹ کو منظور کرتی ہے یا اس میں کٹوتیاں کی جاتی ہیں۔


ٹرمپ کلاس بیٹل شپ (trump class battleship budget)  کا منصوبہ امریکی بحریہ کے مستقبل کے لیے جتنا اہم ہے، اتنا ہی یہ سیاسی اور مالی طور پر متنازع بھی ہوتا جا رہا ہے۔ ریکارڈ بجٹ اور قیادت میں تبدیلیوں نے اس منصوبے کی شفافیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اگرچہ بحریہ کا ماننا ہے کہ یہ جہاز سمندروں میں امریکی برتری برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں، لیکن بجٹ کی کھینچا تانی اس منصوبے کی بروقت تکمیل میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کو اب ٹیکنالوجی اور بجٹ کے درمیان ایک ایسا توازن تلاش کرنا ہوگا جو ملکی معیشت پر بوجھ بنے بغیر دفاعی مقاصد حاصل کر سکے۔