China’s Fighter Jet Sales Surge Following India-Pakistan Clash: 2026 Market Report

China’s Fighter Jet Sales Surge Following India-Pakistan Clash: 2026 Market Report

عالمی دفاعی مارکیٹ میں اس وقت بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں، جہاں چین کے جنگی طیاروں (fighter aircraft) بنانے والے اداروں کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔نیوز  رپورٹس کے مطابق، حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے بعد چینی لڑاکا طیاروں کی فروخت میں تیزی آئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال نے دفاعی برآمدات کے لیے نئے راستے کھول دیے ہیں، تاہم ان کمپنیوں کو اندرونی طور پر کچھ معاشی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔

China’s Fighter Jet Sales Surge Following India-Pakistan Clash: 2026 Market Report

بلومبرگ (Bloomberg) کی رپورٹ کے مطابق، پاک بھارت فضائی جھڑپ کے بعد چینی جنگی طیاروں (fighter aircraft)  کی مانگ میں اضافہ اس لیے ہوا ہے کیونکہ ان طیاروں نے اپنی آپریشنل صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ تاہم، آر ٹی ٹی نیوز (RTTNews) نے ایک مختلف پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا ہے کہ چین کے بڑے ادارے 'ایویک ژیان ایئر کرافٹ انڈسٹری' (AVIC) کے پہلی سہ ماہی (Q1) کے منافع میں کمی دیکھی گئی ہے۔ منافع میں یہ کمی سپلائی چین کے مسائل اور بڑھتے ہوئے پیداواری اخراجات کے باعث سامنے آئی ہے، جو کہ ریکارڈ فروخت کے باوجود کمپنی کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔


ٹی آر ٹی ورلڈ (TRT World) کی رپورٹ کے مطابق، ایشیا میں دفاعی توازن تیزی سے بدل رہا ہے اور ممالک اب روایتی مغربی سپلائرز کے بجائے متبادل ذرائع تلاش کر رہے ہیں۔ جنگی طیاروں (fighter aircraft)  کی دوڑ میں چین اب ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھرا ہے، جو نہ صرف سستی بلکہ جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس طیارے فراہم کر رہا ہے۔ پاکستانی فضائیہ کی جانب سے جے-10 سی (J-10C) جیسے طیاروں کے کامیاب استعمال نے بین الاقوامی خریداروں کی توجہ مزید حاصل کر لی ہے، جس سے مستقبل میں چینی برآمدات میں مزید اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔


جنگی طیاروں (fighter aircraft)  کی عالمی صنعت اس وقت ایک اہم موڑ پر ہے۔ ایک طرف جہاں چینی طیارے اپنی عسکری مہارت ثابت کر کے نئی مارکیٹیں حاصل کر رہے ہیں، وہیں مینوفیکچررز کو اپنے مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ پاک بھارت کشیدگی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جدید فضائی طاقت کسی بھی ملک کے دفاع کے لیے کتنی ضروری ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا چین اپنے معاشی نقصانات کو پورا کر کے اس بڑھتی ہوئی عالمی مانگ کا بھرپور فائدہ اٹھا پاتا ہے یا نہیں۔