عالمی سفارتی محاذ سے ایک بڑی اور اچانک خبر سامنے آئی ہے جس نے خطے کی صورتحال کو ایک نیا موڑ دے دیا ہے۔ عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے ایرانی حکام سے مذاکرات کے لیے امریکی ایلچیوں کے طے شدہ دورہ پاکستان کو منسوخ کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی وزیر خارجہ پہلے ہی اسلام آباد میں موجود تھے اور توقع کی جا رہی تھی کہ پاکستان کی ثالثی میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان برف پگھلنے کا عمل شروع ہو جائے گا۔
الجزیرہ (Al Jazeera) کی لائیو بلاگ رپورٹ کے مطابق، امریکی ایلچیوں کو اسلام آباد پہنچ کر ایرانی وفد سے بالواسطہ یا براہِ راست بات چیت کرنی تھی، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) کے اس اچانک فیصلے نے سفارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ بی بی سی (BBC) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس منسوخی کی وجوہات فی الحال واضح نہیں کی گئیں، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ واشنگٹن مذاکرات کی شرائط یا مقام کے حوالے سے اپنے موقف پر دوبارہ غور کر رہا ہے۔ اس پیش رفت سے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کی کوششوں کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔
نیویارک ٹائمز (The New York Times) کی لائیو کوریج کے مطابق، پاکستان نے اس مذاکراتی عمل کے لیے بھرپور تیاریاں کر رکھی تھیں اور اسے عالمی سطح پر ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ تاہم،ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) کی جانب سے "مذاکرات کی منسوخی" کے فیصلے نے تہران اور اسلام آباد کے حکام کو بھی حیران کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی پر سختی سے کاربند ہے اور وہ کسی بھی ایسے معاہدے میں جلدی نہیں کرنا چاہتی جو ان کے تزویراتی مفادات کے خلاف ہو۔
ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) کے اس فیصلے نے عالمی سیاست میں ایک بار پھر بے یقینی کی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ پاکستان، جو اس تناؤ کو کم کرنے کے لیے ایک پل کا کردار ادا کر رہا تھا، اب نئی صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے۔ سفارتی ماہرین کے مطابق، مذاکرات کی منسوخی کا مطلب یہ نہیں کہ راہیں مکمل طور پر بند ہو گئی ہیں، لیکن اس سے یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں کسی بڑے بریک تھرو کی امیدیں مدھم پڑ گئی ہیں۔ اب تمام نظریں وائٹ ہاؤس کے اگلے بیان اور ایران کے ردِ عمل پر لگی ہوئی ہیں۔

