پاکستان میں diesel petrol prices pakistan ایک نئی تاریخی سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس نے ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ نیوز رپورٹس کے مطابق، پیٹرول پر ٹیکس کی شرح 46 فیصد تک پہنچنے کے بعد قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت 520 روپے کی حد عبور کر چکی ہے۔ یہ اضافہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پاکستان خطے میں ایران اور پڑوسی ممالک کے درمیان جاری کشیدگی میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جیو ٹی وی (Geo TV) کی رپورٹ کے مطابق، حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں سبسڈیز (Subsidies) کوئی پائیدار حل نہیں ہیں، اور آئی ایم ایف کے پروگرام کو برقرار رکھنے کے لیے قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا۔
نکی ایشیا (Nikkei Asia) کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے گرد منڈلاتے جنگ کے بادلوں اور عالمی منڈی میں سپلائی چین متاثر ہونے کی وجہ سے حکومتِ پاکستان نے ایندھن کی قیمتوں میں یہ بڑا اضافہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ diesel petrol prices pakistan میں اس قدر اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں فوری اضافہ ہوگا، جس کا براہِ راست اثر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر پڑے گا۔ فنانشل نیوز انڈیا نے اطلاع دی ہے کہ پیٹرول پر عائد بھاری ٹیکسوں نے عام آدمی کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے، اور اب پیٹرول کی قیمت کا تقریباً آدھا حصہ صرف سرکاری ٹیکسوں پر مشتمل ہے۔
جیو ٹی وی (Geo TV) کے مطابق، معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سبسڈی فراہم کرنا قومی خزانے پر بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے، اس لیے حکومت مارکیٹ کی بنیاد پر قیمتیں مقرر کرنے پر مجبور ہے۔ تاہم، اس پالیسی نے عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔diesel petrol prices pakistan میں ڈیزل کا 520 روپے سے تجاوز کرنا زراعت اور صنعت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ ٹیوب ویل اور مال بردار گاڑیاں زیادہ تر ڈیزل پر ہی انحصار کرتی ہیں۔ حکومت کی جانب سے قیمتوں میں اس اضافے کو "معاشی حقیقت" قرار دیا جا رہا ہے، لیکن عوام اسے اپنی معاشی بقا کے لیے بڑا خطرہ سمجھ رہے ہیں۔
diesel petrol prices pakistan میں حالیہ اضافے نے ملک کے معاشی منظر نامے کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ ایک طرف بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا دباؤ ہے اور دوسری طرف عوامی پریشانی۔ ایران کے گرد بدلتی ہوئی صورتحال نے ایندھن کی عالمی قیمتوں کو غیر مستحکم رکھا ہوا ہے، جس کا خمیازہ پاکستانی عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس بحران سے نمٹنے کے لیے ٹارگٹڈ ریلیف فراہم کرتی ہے یا عوام کو مزید مہنگائی کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

