نائجیریا کے ارب پتی صنعتکار عبدالصمد (abdul samad) رابیو کی دولت اور اثر و رسوخ میں حالیہ ہفتوں کے دوران غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ نیوز رپورٹس کے مطابق، ان کے کاروباری ادارے 'بی یو اے فوڈز' (BUA Foods) کے ریکارڈ منافع کی بدولت ان کی دولت 14 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس اضافے نے انہیں افریقہ کے دوسرے امیر ترین شخص بننے کے مزید قریب کر دیا ہے، جو نائجیریا اور براعظم افریقہ کی معیشت میں ان کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
بلینیئرز افریقہ (Billionaires Africa) کی رپورٹ کے مطابق، عبدالصمد (abdul samad) رابیو کی مجموعی مالیت میں صرف چند ہفتوں کے دوران 2.8 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کامیابی کا سہرا ان کی بہترین کاروباری حکمت عملی اور فوڈ سیکٹر میں ہونے والی نمایاں ترقی کو جاتا ہے۔ کیپ ٹاؤن میں 'ٹوٹو فاؤنڈیشن' (Tutu Foundation) کے فیلوز سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ "افریقہ کی عظمت حادثاتی نہیں بلکہ ارادتاً حاصل کی جاتی ہے اور اسے روزانہ کی بنیاد پر تھوڑا تھوڑا کر کے تعمیر کیا جاتا ہے"۔
بزنس انسائیڈر (Business Insider) کی رپورٹ کے مطابق، عبدالصمد (abdul samad) رابیو اب افریقہ کی امیر ترین شخصیات کی فہرست میں تیزی سے اوپر کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں بی یو اے گروپ (BUA Group) نے سیمنٹ، چینی اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں نئی بلندیوں کو چھوا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ افریقی سرمایہ کاروں کو براعظم کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے طویل مدتی اہداف پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ ان کے بصیرت افروز خیالات نے نہ صرف نائجیریا بلکہ پورے افریقہ کے نئے کاروباریوں کے لیے کامیابی کی ایک نئی راہ متعین کر دی ہے۔
عبدالصمد (abdul samad) رابیو کی کامیابی کی کہانی محنت اور مستقل مزاجی کا بہترین نمونہ ہے۔ ان کی دولت میں ہونے والا حالیہ اضافہ نائجیریا کی سٹاک مارکیٹ میں ان کی کمپنیوں پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کا ثبوت ہے۔ اپنی دولت کے ساتھ ساتھ وہ اپنی سماجی ذمہ داریوں سے بھی بخوبی واقف ہیں، جس کا اظہار وہ تعلیم اور نوجوانوں کی تربیت کے پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر کرتے ہیں۔ آنے والے وقت میں وہ افریقہ کے معاشی منظر نامے کو تبدیل کرنے میں مزید اہم کردار ادا کرنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔

