ایرانی صدر (iranian president) مسعود پزشکیان نے علاقائی امن کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور غیر متوقع پیش کش کی ہے، جس کے تحت ایران اپنے پڑوسی ممالک پر حملے نہ کرنے کا عہد کر سکتا ہے۔ نیوز رپورٹس کے مطابق، صدر پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران اپنے پڑوسیوں پر اس وقت تک کوئی حملہ نہیں کرے گا جب تک ان ممالک کی سرزمین ایران کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال نہیں کی جاتی۔ صدر کا یہ بیان مشرقِ وسطیٰ میں جاری تناؤ کو کم کرنے کی ایک بڑی سفارتی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس 'امن کی پیش کش' نے خود ایران کے اندر ایک نیا سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔
الجزیرہ (Al Jazeera) کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر (iranian president) کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اپنی معیشت کو بحال کرنے اور عالمی تنہائی ختم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ صدر پزشکیان نے زور دیا کہ ایران کی ترجیح معاشی ترقی اور علاقائی استحکام ہے، اور وہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ 'عدم جارحیت' کے اصول پر مبنی تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے یہ شرط بھی رکھی کہ اگر کسی پڑوسی ملک نے اپنی سرزمین دشمن طاقتوں (بالخصوص امریکہ یا اسرائیل) کو ایران پر حملے کے لیے فراہم کی، تو ایران بھرپور جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
دی گارڈین (The Guardian) کے مطابق، صدر کے اس بیان نے ایران کے اندرونی حلقوں، خاص طور پر قدامت پسندوں اور عسکری قیادت کے کچھ حصوں میں شدید ردِعمل پیدا کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی پیش کش ایران کی دفاعی پوزیشن کو کمزور کر سکتی ہے اور دشمن کو شہ دے گی۔ بی بی سی (BBC) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تہران میں اس معاملے پر حکومت اور سخت گیر عناصر کے درمیان اختلافات واضح ہو گئے ہیں، جہاں صدر کے حامی اسے ایک دور اندیشانہ سفارتی قدم قرار دے رہے ہیں جبکہ مخالفین اسے 'قومی مفادات پر سمجھوتہ' کہہ رہے ہیں۔
ایرانی صدر (iranian president) مسعود پزشکیان کی اس سفارتی پہل نے عالمی سطح پر ایک مثبت پیغام تو بھیجا ہے، لیکن ایران کے اندرونی سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ کر دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر صدر اپنی اس پالیسی پر سپریم لیڈر اور عسکری اداروں کو اعتماد میں لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو یہ خطے کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔ فی الحال، دنیا کی نظریں ایران کے اندرونی سیاسی منظر نامے پر جمی ہوئی ہیں کہ آیا صدر کی یہ تجویز باقاعدہ ریاستی پالیسی کا حصہ بن پاتی ہے یا نہیں۔

