X8.1 Solar Flare 2026: Sun Unleashes Most Powerful Outburst in Years from Region 4366

X8.1 Solar Flare 2026: Sun Unleashes Most Powerful Outburst in Years from Region 4366

سورج نے سال 2026ء کے آغاز میں ہی اپنی غیر معمولی قوت کا مظاہرہ کیا ہے، جہاں ایک دیو ہیکل سن اسپاٹ (Sunspot) سے حالیہ برسوں کا سب سے بڑا سولر فلیر (solar flares)  خارج ہوا ہے۔ ناسا (NASA) اور سپیس ویدر ڈاٹ جی او وی (SpaceWeather.gov) کی رپورٹس کے مطابق، یکم اور 2 فروری کی درمیانی شب سورج کے متحرک خطے '4366' سے X8.1  شدت کا ایک انتہائی طاقتور دھماکہ ہوا، جو کہ موجودہ سولر سائیکل 25 کا اب تک کا تیسرا بڑا واقعہ ہے۔ اس دھماکے سے نکلنے والی تابکاری نے زمین کے بالائی کرہ ہوائی کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں بحر الکاہل کے علاقوں بشمول آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں شارٹ ویو ریڈیو بلیک آؤٹ (Radio Blackout) رپورٹ کیا گیا ہے۔ سائنٹیفک امریکن کے مطابق، سورج کی یہ بڑھتی ہوئی سرگرمی اس بات کی علامت ہے کہ ہمارا ستارہ اپنے عروج کے دور (Solar Maximum) سے گزر رہا ہے، جس سے زمین کے مواصلاتی نظام اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

The Sun releases a massive X8.1 solar flare causing radio blackouts on Earth. Get the latest NASA and NOAA space weather updates on the strongest sola

سپیس ویدر (SpaceWeather.gov) کی اپ ڈیٹ کے مطابق، سن اسپاٹ ریجن 4366 محض چند دنوں میں ایک چھوٹے سے نقطے سے زمین سے دس گنا بڑے حجم میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس خطے کی مقناطیسی عدم استحکام کی وجہ سے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 20 سے زائد سولر فلیر (solar flares)  خارج ہوئے ہیں، جن میں 4 طاقتور X-class دھماکے بھی شامل ہیں۔ ناسا کے سولر ڈائنامکس آبزرویٹری (SDO) نے ان مناظر کو قید کیا ہے، جو ظاہر کرتے ہیں کہ سورج کی سطح سے پلازما کے بڑے بادل یعنی کورونل ماس ایجیکشن (CME) بھی خارج ہوئے ہیں۔ اگرچہ حالیہ CMEs براہِ راست زمین کی طرف نہیں ہیں، تاہم ان کے 'گلانسنگ بلو' (Glancing blow) یا معمولی ٹکراؤ کی وجہ سے 5 فروری تک زمین پر مقناطیسی طوفان اور خوبصورت قطبی روشنیوں (Auroras) کے نظر آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔


سائنٹیفک امریکن (Scientific American) کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس طرح کے سولر فلیر (solar flares)  کی لہریں ریڈیو فریکوئنسیز کو جذب کر لیتی ہیں، جس سے ایوی ایشن (Aviation) اور بحری مواصلات میں خلل پڑتا ہے۔ ناسا (NASA) کے بلاگ کے مطابق، سن اسپاٹ 4366 کی پیچیدہ ساخت جسے 'ڈیلٹا کنفیگریشن' کہا جاتا ہے، آنے والے چند دنوں میں مزید بڑے دھماکوں کا سبب بن سکتی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ سن اسپاٹ اب براہِ راست زمین کے سامنے آ رہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اگر اب کوئی بڑا دھماکہ ہوا تو اس کے اثرات براہِ راست ہمارے پاور گریڈز اور جی پی ایس (GPS) سسٹمز پر پڑ سکتے ہیں۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر عالمی خلائی ایجنسیاں اور سیٹلائٹ آپریٹرز ہائی الرٹ پر ہیں۔


ناسا (NASA) کے مطابق، فروری 2026ء کا یہ پہلا ہفتہ خلائی موسم کے لحاظ سے انتہائی غیر مستحکم ثابت ہو رہا ہے۔ X8.1  شدت کا یہ سولر فلیر (solar flares)  اکتوبر 2024ء کے بعد سب سے بڑا واقعہ ہے۔ سائنٹیفک امریکن کی رپورٹ بتاتی ہے کہ جب سورج سے نکلنے والی شعاعیں زمین کے آئیونوسفیئر (Ionosphere) سے ٹکراتی ہیں تو یہ بجلی کے چارج شدہ ذرات کی کثافت بڑھا دیتی ہیں، جس سے سگنلز کا سفر مشکل ہو جاتا ہے۔ سپیس ویدر ڈاٹ جی او وی کے مطابق، ریجن 4366 ابھی مزید فعال ہے اور اگلے 48 گھنٹوں میں مزید M اور X کلاس دھماکوں کا 75 فیصد امکان موجود ہے۔


سورج کی حالیہ سرگرمی نے زمین کے مواصلاتی ڈھانچے کے لیے ایک بڑا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ سپیس ویدر (SpaceWeather.gov) کی رپورٹ کے مطابق، X8.1 فلیر نے ثابت کر دیا ہے کہ سورج کا موجودہ دورانیہ کتنا طاقتور ہے۔سولر فلیر (solar flares) کی یہ لہریں نہ صرف ریڈیو بلیک آؤٹ کا سبب بن رہی ہیں بلکہ زمین کے گرد گردش کرنے والے سیٹلائٹس کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ ناسا (NASA) اور سائنٹیفک امریکن (Scientific American) کا خلاصہ ہے کہ اگرچہ ان دھماکوں سے انسانی جسم کو براہِ راست کوئی نقصان نہیں ہوتا، لیکن ہماری ٹیکنالوجی پر مبنی زندگی ان کے رحم و کرم پر ہے۔ آنے والے دنوں میں مزید 'آسمانی آتشبازی' یعنی اوروراز (Auroras) کی توقع کی جا رہی ہے۔