میلان کورٹینا 2026ء میں منعقد ہونے والے سرمائی اولمپکس (2026 winter olympics) کے تمغوں نے اپنی تیاری سے قبل ہی عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے، کیونکہ دھاتوں کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے ان تمغوں کی مادی قدر کو تاریخی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔ این بی سی نیویارک، فوربس اور مائننگ ڈاٹ کام کی رپورٹس کے مطابق، سونے اور چاندی کی عالمی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے باعث اس بار تقسیم کیے جانے والے تمغوں کی مجموعی مالیت 1.3 ملین ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔ تاہم، کھلاڑیوں کے لیے یہ تمغے محض اعزاز ہی نہیں بلکہ امریکی کھلاڑیوں کے لیے 'اندرونی ریونیو سروس' (IRS) کی جانب سے ٹیکس کے بل کی صورت میں ایک مالیاتی چیلنج بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ اطالوی ثقافت اور جدید ڈیزائن کے امتزاج سے تیار کردہ یہ تمغے نہ صرف کھیل کی عظمت بلکہ معاشی اتار چڑھاؤ کی بھی عکاسی کر رہے ہیں۔
این بی سی نیویارک (NBC New York) کی رپورٹ کے مطابق، سرمائی اولمپکس (2026 winter olympics) کے تمغوں کا ڈیزائن اٹلی کے پہاڑی سلسلوں اور برفانی خوبصورتی سے متاثر ہو کر تیار کیا گیا ہے۔ یہ تمغے میلان کے فنکارانہ ورثے اور کورٹینا کے قدرتی مناظر کی عکاسی کرتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اولمپک کمیٹی نے ان تمغوں کی تیاری میں پائیداری (Sustainability) کو ترجیح دی ہے، جس کے لیے ری سائیکل شدہ دھاتوں کا استعمال بھی زیرِ غور ہے۔ یہ تمغے نہ صرف کھلاڑیوں کی محنت کا صلہ ہوں گے بلکہ اٹلی کی میزبانی کی ایک یادگار نشانی کے طور پر بھی یاد رکھے جائیں گے۔
مائننگ ڈاٹ کام (Mining.com) کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ خام مال کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی نے سرمائی اولمپکس (2026 winter olympics) کے تمغوں کو اب تک کے مہنگے ترین تمغوں میں شامل کر دیا ہے۔ سونے (Gold) کی قیمتوں میں حالیہ ریلی کے باعث ایک گولڈ میڈل کی اندرونی قیمت پچھلے اولمپکس کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تمغوں کے سیٹ کی مالیت میں یہ اضافہ کان کنی کی صنعت اور عالمی سپلائی چین کے اثرات کو ظاہر کرتا ہے، جس کی وجہ سے اس بار تمغوں کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی کے مزید سخت اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
فوربس (Forbes) کی رپورٹ نے ایک مختلف قانونی پہلو پر روشنی ڈالی ہے، جس کے مطابق امریکی کھلاڑیوں کو حاصل ہونے والے انعامات اور سونے کے تمغوں پر بھاری ٹیکس ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سرمائی اولمپکس (2026 winter olympics) میں ملنے والی انعامی رقم اور تمغے کی مالیت کو امریکی ٹیکس قوانین کے تحت "آمدنی" تصور کیا جاتا ہے۔ اگرچہ کچھ کھلاڑیوں کے لیے اس میں استثنیٰ موجود ہے، لیکن بڑے ستاروں کو اپنی کامیابی کے بدلے IRS کو ایک خطیر رقم ادا کرنی ہوگی۔ یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ کس طرح اولمپک کی شان و شوکت کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں کو پیچیدہ مالیاتی ذمہ داریوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
میلان کورٹینا اولمپکس کے تمغے اپنی مالیت اور ڈیزائن کی وجہ سے منفرد حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ مائننگ ڈاٹ کام (Mining.com) کی رپورٹ کے مطابق، دھاتوں کی قیمتوں نے ان تمغوں کو سرمایہ کاری کا ایک قیمتی اثاثہ بنا دیا ہے۔ سرمائی اولمپکس (2026 winter olympics) کی انتظامیہ کے لیے یہ ایک بڑا اعزاز ہے کہ وہ اتنے قیمتی اعزازات اپنے کھلاڑیوں میں تقسیم کریں گے۔ این بی سی نیویارک (NBC New York) کا خلاصہ ہے کہ یہ تمغے اٹلی کے لیے فخر کا باعث ہوں گے۔ فوربس (Forbes) کے مطابق، کھلاڑیوں کو اپنی جیت کے ساتھ ساتھ ٹیکس کی صورتحال پر بھی نظر رکھنی ہوگی تاکہ ان کی خوشی کسی مالیاتی بوجھ میں تبدیل نہ ہو۔

