امریکہ اور ایران کے درمیان عمان میں ایٹمی مذاکرات کا آغاز ہونے جا رہا ہے جس کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور مفاہمت کی راہ نکالنا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق یہ مذاکرات جمعہ کے روز عمان میں منعقد ہوں گے جہاں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام ایٹمی پروگرام سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔
مشرق وسطیٰ میں حالیہ فوجی نقل و حرکت اور بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی کے تناظر میں یہ ملاقات انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ عمان، جو طویل عرصے سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے، ایک بار پھر میزبانی کے لیے تیار ہے۔ ان مذاکرات کا بنیادی ایجنڈا ایٹمی پروگرام (Nuclear Programme) تک محدود رکھنا ایران کی اولین ترجیح رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ ترکیہ کے بجائے عمان کا انتخاب کیا گیا تاکہ بات چیت کا دائرہ کار صرف مخصوص تکنیکی امور تک رہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اہم ملاقات میں امریکی صدر کے قریبی ساتھی جیرڈ کشنر (Jared Kushner) اور امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف (Steve Witkoff) شریک ہوں گے، جبکہ ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی (Abbas Araqchi) کریں گے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ اس مرحلے پر صرف دو طرفہ مذاکرات (Bilateral Talks) میں دلچسپی رکھتا ہے اور علاقائی ممالک کی شمولیت کو فی الحال موخر کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
ایران کے بیلسٹک میزائل (Ballistic Missiles) کا معاملہ مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ دکھائی دیتا ہے۔ تہران اسے اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری کے لیے ایک "سرخ لکیر" (Red Line) قرار دے چکا ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن کا اصرار ہے کہ پائیدار امن کے لیے ایران کو اپنے میزائل پروگرام اور علاقائی پراکسیز (Regional Proxies) کی حمایت ترک کرنی ہوگی۔ تاہم، ایرانی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی (Uranium Enrichment) کے حوالے سے لچک دکھا سکتے ہیں۔
سمندری حدود میں حالیہ واقعات، بشمول امریکی بحری بیڑے کے قریب ایرانی ڈرون (Drone) گرائے جانے اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی روک تھام نے ماحول کو مزید بوجھل کر دیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو سخت ترین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ ان حالات میں عمان مذاکرات کو کشیدگی کم کرنے (De-escalation) کا آخری بڑا موقع قرار دیا جا رہا ہے۔
علاقائی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ان مذاکرات میں کسی قسم کا ابتدائی فریم ورک طے پا جاتا ہے، تو اس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور معاشی استحکام کو تقویت ملے گی۔ ایران کی قیادت کو اندیشہ ہے کہ اقتصادی پابندیاں اور عوامی بے چینی ان کے اقتدار کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، اسی لیے وہ معاشی ریلیف کے بدلے ایٹمی پروگرام پر کچھ رعایتیں دینے پر غور کر رہے ہیں۔
US-Iran Talks (امریکہ ایران مذاکرات), Nuclear Programme (ایٹمی پروگرام), Oman Negotiations (عمان مذاکرات), De-escalation (کشیدگی میں کمی), Ballistic Missiles (بیلسٹک میزائل), Middle East Peace (مشرق وسطیٰ کا امن)

