امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں ہیں جب انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک انتہائی متنازع ویڈیو (Video)شیئر کی، جس میں سابق صدر براک اوباما اور ان کی اہلیہ مشیل اوباما کو بندروں (Apes) سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اس اقدام نے امریکہ کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں غم و غصے کی ایک نئی لہر دوڑائی ہے اور اسے نسلی امتیاز کی بدترین مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹس کے مطابق، یہ ویڈیو ٹرمپ (trump video)کی جانب سے شیئر کیے جانے کے فوراً بعد وائرل ہو گئی، جس میں سیاہ فام شخصیات کی تضحیک کے لیے قدیم نسل پرستانہ استعاروں کا استعمال کیا گیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی زبان اور مواد کا استعمال نہ صرف سابقہ روایات کے خلاف ہے بلکہ یہ معاشرے میں نفرت اور تقسیم کو مزید ہوا دینے کا سبب بن رہا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی اور شہری حقوق کی تنظیموں نے اس کی سخت مذمت کی ہے۔
سی این این کی اینکر لورا کوٹس (Laura Coates) نے اس معاملے پر جذباتی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سیاہ فام لوگوں کو بندروں سے تشبیہ دینا ایک ایسی تاریخی برائی ہے جس کی وضاحت کر کے وہ کسی کی توہین نہیں کرنا چاہتیں، کیونکہ یہ بات ہر ذی شعور انسان کے لیے واضح ہے کہ یہ کتنا غلط اور شرمناک عمل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی حرکتیں امریکی سیاست کے معیار کو گرا رہی ہیں اور انسانی وقار کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
وائٹ ہاؤس اور اوباما کے نمائندوں نے فی الحال اس اشتعال انگیز پوسٹ پر براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم عوامی سطح پر ٹرمپ کے اس فعل کو "بیمار ذہنیت" کا عکاس قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، ٹرمپ کے حامیوں کا موقف ہے کہ یہ محض ایک طنزیہ ویڈیو ٹرمپ (trump video) تھی جسے غلط رنگ دیا جا رہا ہے، لیکن ناقدین کا ماننا ہے کہ نسل پرستی کو طنز کے لبادے میں چھپایا نہیں جا سکتا۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں نسلی انصاف اور برابری کے حوالے سے پہلے ہی کافی بحث جاری ہے۔ اس تنازع نے ڈونلڈ ٹرمپ کی آنے والی سیاسی مہم اور ان کے امیج پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اس طرح کے واقعات امریکی معاشرے کے زخموں کو ہرا کرنے اور عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔
Donald Trump (ڈونلڈ ٹرمپ), Barack Obama (براک اوباما), Racism Controversy (نسل پرستی کا تنازع), US Politics (امریکی سیاست), Michelle Obama (مشیل اوباما), Social Media Outrage (سوشل میڈیا پر غم و غصہ)

