Trump's $12 Billion Mineral Stockpile: A Major Move to Counter China's Dominance

Trump's $12 Billion Mineral Stockpile: A Major Move to Counter China's Dominance

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سپلائی چین اور اسٹریٹجک معدنیات پر چین کی اجارہ داری کو توڑنے کے لیے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے 12 بلین ڈالر کے قومی معدنیاتی ذخائر قائم کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ سی این بی سی، بلومبرگ اور ایس ایم ایم کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، اس اقدام کا بنیادی مقصد دفاعی اور ٹیکنالوجی کی صنعتوں کے لیے ناگزیر "ریئر ارتھ" (Rare Earth) معدنیات کی فراہمی کو یقینی بنانا اور بیجنگ کے بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کو کاؤنٹر (counter)  کرنا ہے۔ اس خبر کے منظرِ عام پر آتے ہی عالمی اسٹاک مارکیٹ میں معدنیات نکالنے والی کمپنیوں (Miners) کے شیئرز کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ دوسری طرف نکل (Nickel) جیسی دھاتوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

President Trump launches a $12 billion strategic mineral stockpile to counter China's monopoly on rare earth minerals. Discover the impact on miners

بلومبرگ (Bloomberg) کی رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کا یہ 12 بلین ڈالر کا فنڈ ان اہم معدنیات کی خریداری اور اسٹوریج کے لیے استعمال کیا جائے گا جو الیکٹرک گاڑیوں، سیمی کنڈکٹرز اور جدید ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہوتی ہیں۔ اس اسٹریٹجک ذخیرے کا مقصد مستقبل میں چین کی جانب سے ممکنہ برآمدی پابندیوں کے خطرے کو کاؤنٹر (counter)  کرنا ہے، کیونکہ اس وقت عالمی سطح پر ان معدنیات کی پروسیسنگ کا بڑا حصہ چین کے کنٹرول میں ہے۔ سی این بی سی (CNBC) کے مطابق، اس منصوبے کے اعلان سے امریکہ میں کام کرنے والی 'ریئر ارتھ' کمپنیوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور سرمایہ کار بڑے پیمانے پر اس شعبے کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔


ایس ایم ایم (SMM News) کی رپورٹ کے مطابق، جہاں ایک طرف نئی سرمایہ کاری کی لہر دوڑ گئی ہے، وہیں فروری کے آغاز میں نکل (Nickel) کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے معدنیاتی تحفظ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا مقصد طویل مدتی سپلائی کو محفوظ بنانا ہے تاکہ غیر ملکی انحصار کو مؤثر طریقے سے کاؤنٹر (counter) کیا جا سکے۔ اس منصوبے کے تحت امریکہ اپنی مقامی کان کنی کی صنعت کو بھی فروغ دے گا اور اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر نئے سپلائی راستے تلاش کرے گا تاکہ چین کے "معدنیاتی ہتھیار" کے اثر کو زائل کیا جا سکے۔


سی این بی سی (CNBC) کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ وال اسٹریٹ کے تجزیہ کار اس فیصلے کو "اقتصادی قوم پرستی" کی نئی لہر قرار دے رہے ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد کسی بھی ہنگامی عالمی صورتحال یا تجارتی جنگ کی صورت میں امریکی معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کو کاؤنٹر (counter)  کرنا ہے۔ بلومبرگ کے مطابق، اس فنڈ کا بڑا حصہ کوبالٹ، لیتھیم اور میگنیشیم جیسے اجزاء پر خرچ کیا جائے گا جو قومی سلامتی کے لیے اہم ہیں۔ ایس ایم ایم کے مطابق، عالمی منڈیوں میں اب ان دھاتوں کی قیمتوں کا تعین ٹرمپ کی اس نئی پالیسی کے گرد گھومے گا۔


صدر ٹرمپ کا یہ منصوبہ عالمی معاشی توازن کو بدلنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ بلومبرگ (Bloomberg) کی رپورٹ کے مطابق، چین کی اجارہ داری کو کاؤنٹر (counter)  کرنے کے لیے یہ اب تک کا سب سے بڑا امریکی مالیاتی عزم ہے۔ سی این بی سی (CNBC) کا خلاصہ ہے کہ معدنیاتی ذخائر کی تیاری سے امریکہ کو عالمی تجارتی مذاکرات میں برتری حاصل ہوگی۔ ایس ایم ایم (SMM) کے مطابق، اگرچہ فوری طور پر کچھ دھاتوں کی قیمتوں میں مندی دیکھی جا رہی ہے، لیکن طویل مدتی بنیادوں پر معدنیاتی صنعت میں ایک بڑا انقلاب متوقع ہے۔ یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ امریکہ اب اپنی اسٹریٹجک ضرورتوں کے لیے کسی دوسرے ملک کا مرہونِ منت نہیں رہنا چاہتا۔