LHC Curbs FBR's Power on Deemed Tax Assessments

LHC Curbs FBR's Power on Deemed Tax Assessments

لاہور ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ: 

ایف بی آر کے ٹیکس اسیسمنٹ (Tax Assessments)دوبارہ کھولنے کے اختیارات محدود، بے بنیاد انکوائریوں کا خاتمہ

پاکستان کے ٹیکس نظام میں شفافیت اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کی سمت میں لاہور ہائی کورٹ نے ایک نہایت اہم اور تاریخی فیصلہ سنایا ہے، جس نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے پرانے اور طے شدہ ٹیکس معاملات (Deemed Assessments) کو محض شک کی بنیاد پر دوبارہ کھولنے کے وسیع اختیارات کو نمایاں طور پر محدود کر دیا ہے۔ اس فیصلے کو ملک بھر کی کاروباری برادری اورٹیکس (Tax) دہندگان کی جانب سے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ ایف بی آر کی جانب سے کی جانے والی "فشنگ انکوائریوں" (Fishing Inquiries) یعنی بغیر ٹھوس ثبوت کے تحقیقات کرنے کے عمل کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ یہ مضمون اس عدالتی فیصلے کے قانونی پہلوؤں، اس کے ٹیکس دہندگان پر اثرات، اور پاکستان کے ٹیکس ڈھانچے کے لیے اس کی اہمیت کا گہرائی سے جائزہ لے گا۔

Lahore High Court's landmark ruling restricts FBR from reopening deemed tax assessments on mere suspicion, barring fishing inquiries, taxpayers, news,

"ڈیمڈ اسیسمنٹ" (Deemed Assessment) کیا ہے اور یہ نظام کیوں اہم ہے؟

اس فیصلے کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے "ڈیمڈ اسیسمنٹ" کے تصور کو سمجھنا ضروری ہے۔ پاکستان میں یونیورسل سیلف اسیسمنٹ اسکیم (Universal Self-Assessment Scheme) رائج ہے۔ اس اسکیم کے تحت، جب کوئی ٹیکس دہندہ اپنے سالانہ ٹیکس گوشوارے (Tax Return) جمع کرواتا ہے، تو قانون یہ فرض کر لیتا ہے کہ فراہم کردہ معلومات درست ہیں اور اسی گوشوارے کو اس سال کا حتمی ٹیکس تعین (Final Tax Assessment) مان لیا جاتا ہے۔ اسے ہی "ڈیمڈ اسیسمنٹ" کہا جاتا ہے۔ اس نظام کا بنیادی مقصد ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنا اور ٹیکس کے نظام پر ان کے اعتماد کو بڑھانا ہے۔ اس کے تحت، ایف بی آر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کمپیوٹرائزڈ بیلٹنگ یا دیگر مخصوص معیارات کی بنیاد پر چند فیصد گوشواروں کو آڈٹ یا تفصیلی جانچ پڑتال کے لیے منتخب کر سکتا ہے۔ اگر کسی گوشوارے کو مقررہ مدت کے اندر آڈٹ کے لیے منتخب نہیں کیا جاتا، تو وہ کیس قانونی طور پر حتمی اور بند سمجھا جاتا ہے۔


ایف بی آر کی پرانی روش: "فشنگ انکوائریاں" اور کاروباری بے یقینی

ماضی میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ایف بی آر کے افسران انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کی دفعہ 122(5) اور دیگر متعلقہ شقوں کا استعمال کرتے ہوئے برسوں پرانے اور طے شدہ کیسز کو دوبارہ کھول دیتے تھے۔ اکثر اس کی وجہ کوئی ٹھوس ثبوت نہیں، بلکہ محض ایک مبہم شک، کوئی نامعلوم اطلاع، یا صرف یہ دیکھنے کی کوشش ہوتی تھی کہ شاید کوئی بے ضابطگی مل جائے۔ اس عمل کو قانونی زبان میں "فشنگ انکوائری" کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ بغیر کسی ٹھوس  ثبوت کے جال پھینک کر مچھلی پکڑنے کی کوشش کرنا۔ اس روش نے ٹیکس (Tax)  دہندگان، خصوصاً کاروباری طبقے میں شدید بے چینی اور بے یقینی کی فضا پیدا کر رکھی تھی۔ تاجروں اور کمپنیوں کو ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ ان کا کوئی بھی پرانا کیس کسی بھی وقت دوبارہ کھولا جا سکتا ہے، جس سے نہ صرف ان کے مالی معاملات متاثر ہوتے تھے بلکہ انہیں ذہنی اذیت اور قانونی چارہ جوئی کے طویل عمل سے بھی گزرنا پڑتا تھا۔


لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ: قانون کی نئی تشریح

لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ قانون ایف بی آر کو کھلی چھوٹ نہیں دیتا کہ وہ جب چاہے اور جس کیس کو چاہے، دوبارہ کھول لے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایک "ڈیمڈ اسیسمنٹ" کیس کو دوبارہ کھولنے کے لیے دو شرائط کا پورا ہونا لازمی ہے:
1. قطعی معلومات (Definite Information): ٹیکس افسر کے پاس کوئی سنی سنائی بات یا مبہم شک نہیں، بلکہ ٹھوس اور قطعی معلومات ہونی چاہئیں جو اس بات کی نشاندہی کریں کہ ٹیکس دہندہ نے اپنی آمدنی چھپائی ہے یا غلط معلومات فراہم کی ہیں۔
2. آمدنی اور معلومات کا تعلق (Nexus): ان قطعی معلومات کا براہ راست تعلق اس آمدنی سے ہونا چاہیے جو مبینہ طور پر ٹیکس (Tax)  سے بچ گئی ہے۔ یعنی، افسر کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کے پاس موجود معلومات کس طرح آمدنی چھپانے کا ثبوت ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ "شک، چاہے کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو، ثبوت کی جگہ نہیں لے سکتا۔" اس فیصلے نے ایف بی آر کے اختیارات کو ایک قانونی دائرے میں محدود کر دیا ہے اور افسران کو پابند کیا ہے کہ وہ نوٹس جاری کرنے سے پہلے اپنی تحقیقات مکمل کریں اور ٹھوس شواہد اکٹھے کریں۔ اب وہ محض تحقیقات شروع کرنے کے لیے کیس نہیں کھول سکتے۔


فیصلے کے دور رس اثرات

اس فیصلے کے پاکستان کے معاشی اور قانونی منظرنامے پر گہرے اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
- ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال ہوگا: جب لوگوں کو یقین ہوگا کہ ان کےٹیکس (Tax)  معاملات کو بغیر کسی ٹھوس وجہ کے چھیڑا نہیں جائے گا، تو وہ زیادہ اعتماد کے ساتھ اپنے گوشوارے جمع کروائیں گے۔
- کاروباری ماحول میں بہتری: "ایز آف ڈوئنگ بزنس" (Ease of Doing Business) کے لیے سب سے اہم چیز پالیسیوں کا استحکام اور قابلِ اعتبار قانونی ڈھانچہ ہے۔ یہ فیصلہ کاروباری برادری کو یہ تحفظ فراہم کرتا ہے کہ ان کے مالی معاملات محفوظ ہیں۔
- غیر ضروری قانونی چارہ جوئی میں کمی: ایف بی آر کی جانب سے کمزور بنیادوں پر جاری کیے جانے والے نوٹسز کی وجہ سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ بڑھ جاتا تھا۔ اب چونکہ نوٹس جاری کرنے کے لیے ٹھوس ثبوت لازمی قرار دیے گئے ہیں، اس لیے بے بنیاد مقدمات میں کمی آئے گی۔
- ایف بی آر کی کارکردگی میں بہتری: یہ فیصلہ ایف بی آر کو اپنی انٹیلی جنس اور ڈیٹا اینالیٹکس کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر مجبور کرے گا۔ اب افسران کو شک کی بنیاد پر کارروائی کرنے کے بجائے ڈیٹا پر مبنی ٹھوس کیس بنانے ہوں گے۔


ٹیکس دہندگان کو کیا کرنا چاہیے؟

اس فیصلے کے بعد ٹیکس (Tax)  دہندگان کو اپنے حقوق کے بارے میں زیادہ باخبر رہنا چاہیے۔ اگر آپ کو کبھی پرانے کیس کے حوالے سے ایف بی آر کا نوٹس موصول ہو، تو آپ کو قانونی حق حاصل ہے کہ آپ ان سے وہ "قطعی معلومات" فراہم کرنے کا مطالبہ کریں جن کی بنیاد پر یہ نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ فیصلہ اس بات کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ تمام ٹیکس دہندگان کو اپنے مالی معاملات کے ریکارڈ کو انتہائی احتیاط سے رکھنا چاہیے اور اپنے ٹیکس گوشوارے ہمیشہ درست معلومات کے ساتھ بروقت جمع کروانے چاہئیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچا جا سکے۔

 

لاہور ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ محض ایک مقدمے کا فیصلہ نہیں، بلکہ یہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی اور ٹیکس (Tax)دہندگان کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس نے ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد کے رشتے کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ایک شفاف، منصفانہ اور قابلِ اعتبار ٹیکس نظام ہی ایک مضبوط معیشت کی بنیاد رکھ سکتا ہے، اور یہ فیصلہ اسی سمت میں ایک جرات مندانہ قدم ہے۔