کراچی میں ایک بار پھر آتشزدگی کے واقعے نے خوف و ہراس پھیلا دیا ہے جب شہر کے ایک گنجان آباد النجیب موبائل مارکیٹ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس نے کئی دکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ڈان نیوز اور ڈیو ڈسکورس کی رپورٹس کے مطابق، اس کراچی فائر (karachi fire) پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیوں نے کئی گھنٹوں تک آپریشن کیا اور خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ تاہم، آگ اتنی شدید تھی کہ لاکھوں روپے مالیت کا تجارتی سامان خاکستر ہو گیا، جس سے متاثرہ تاجروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی جا رہی ہے، لیکن انتظامیہ نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے تاکہ اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔
ڈان نیوز (Dawn News) کی رپورٹ کے مطابق، کراچی فائر (karachi fire) کا یہ واقعہ شہر کے ایک معروف کاروباری مرکز النجیب موبائل مارکیٹ میں پیش آیا جہاں تنگ گلیوں کے باعث فائر ٹینڈرز کو جائے وقوعہ تک پہنچنے میں سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ آگ پہلے ایک دکان میں لگی اور پھر تیزی سے ملحقہ گوداموں تک پھیل گئی۔ فائر بریگیڈ حکام نے فوراً موقع پر پہنچ کر آگ کو مزید پھیلنے سے روکا اور 'کولنگ' کا عمل شروع کیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہر میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات اور پرانی وائرنگ ایسے واقعات کی ایک بڑی وجہ بن کر ابھر رہی ہے، جس پر تاجر برادری نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ڈیو ڈسکورس (Devdiscourse) کی رپورٹ میں فائر فائٹرز کی بروقت کارروائی کی تعریف کی گئی ہے جنہوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر آگ پر قابو پایا۔ اس کراچی فائر (karachi fire) کے دوران دھوئیں کے بادل کئی کلومیٹر دور سے دیکھے جا سکتے تھے، جس کی وجہ سے قریبی علاقوں میں ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔ ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر عمارت کو خالی کرایا اور بجلی کی فراہمی منقطع کر دی تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق، تجارتی عمارتوں میں آگ بجھانے والے آلات (Fire Extinguishers) کی عدم موجودگی اور ہنگامی اخراج کے راستوں کی کمی نے ریسکیو آپریشن کو مزید پیچیدہ بنا دیا تھا۔
ڈان نیوز (Dawn News) کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سندھ حکومت نے متاثرہ دکانداروں کے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کراچی فائر (karachi fire) کے اس واقعے نے ایک بار پھر میونسپل اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ڈیو ڈسکورس کے مطابق، ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک تجارتی مراکز میں باقاعدہ فائر آڈٹ نہیں کیا جائے گا، اس طرح کے حادثات رونما ہوتے رہیں گے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ محض ایک حادثہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی مجرمانہ غفلت کارفرما تھی۔
کراچی میں آگ لگنے کا یہ واقعہ ایک کڑا انتباہ ہے کہ شہر کی تجارتی عمارتوں میں حفاظتی انتظامات کو بہتر بنانا ناگزیر ہے۔ ڈان نیوز (Dawn News) کی رپورٹ کے مطابق، فائر فائٹرز کی محنت سے ایک بڑی تباہی ٹل گئی۔ اس کراچی فائر (karachi fire) نے تاجروں کے لیے معاشی مسائل کے پہاڑ کھڑے کر دیے ہیں۔ ڈیو ڈسکورس (Devdiscourse) کا خلاصہ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور بہتر تربیت یافتہ عملہ ہی مستقبل میں ایسے نقصانات کو کم کر سکتا ہے۔ انتظامیہ نے یقین دلایا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور حفاظتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔

