امریکی محکمہ انصاف (DOJ) میں ایک بڑی انتظامی ہلچل دیکھنے میں آئی ہے جہاں "ویپنائزیشن زار" (Weaponization Czar) کے طور پر جانے جانے والے اہم عہدیدار ایڈ مارٹن (ed martin) کے حوالے سے متضاد خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ این بی سی نیوز، سی این این اور واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹس کے مطابق، ایڈ مارٹن یا تو اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں یا انہیں تنزلی (Demotion) کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈ مارٹن کو محکمے کے اندر "سیاسی ہتھیار" کے طور پر استعمال کیے جانے کے الزامات اور داخلی اختلافات کی وجہ سے اس صورتحال کا سامنا ہے۔ ان کی روانگی یا تنزلی بائیڈن انتظامیہ کے محکمہ انصاف کے اندر جاری بڑی اصلاحات اور سیاسی دباؤ کا شاخسانہ قرار دی جا رہی ہے، جس کے اثرات امریکی سیاست پر گہرے ہو سکتے ہیں۔
این بی سی نیوز (NBC News) کی رپورٹ کے مطابق، ایڈ مارٹن (ed martin) کو خصوصی طور پر ان تحقیقات کی نگرانی کے لیے مقرر کیا گیا تھا جنہیں ریپبلکنز "سرکاری اداروں کا سیاسی استعمال" قرار دیتے رہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ مارٹن کا کردار محکمے کے اندر کافی متنازع رہا ہے اور ان کی حالیہ تبدیلی دراصل داخلی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ سی این این (CNN) کی رپورٹ کے مطابق، ایڈ مارٹن نے محکمہ انصاف چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے سرکاری عہدے پر جائیں گے یا مکمل طور پر حکومتی امور سے الگ ہو جائیں گے۔ اس اچانک تبدیلی نے واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ (Washington Post) کی رپورٹ میں ایک مختلف پہلو سامنے لایا گیا ہے، جس کے مطابق ایڈ مارٹن (ed martin) کو باقاعدہ طور پر ان کے موجودہ بااثر عہدے سے ہٹا کر ایک کم اہم پوزیشن پر بھیج دیا گیا ہے (Demoted)۔ رپورٹ کے مطابق، یہ اقدام محکمے کی ساکھ کو بچانے اور سیاسی جانبداری کے تاثر کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ ایڈ مارٹن، جو کہ ایک تجربہ کار قانونی ماہر سمجھے جاتے ہیں، اب ایک ایسی پوزیشن پر ہوں گے جہاں ان کا براہِ راست پالیسی سازی یا ہائی پروفائل تحقیقات میں کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔ اس فیصلے کو محکمہ انصاف کے اندر "صفائی کی مہم" کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
این بی سی نیوز (NBC News) کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایڈ مارٹن (ed martin) کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں سیاسی قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کا عہدہ ہی غیر آئینی طور پر سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے تخلیق کیا گیا تھا۔ سی این این کے مطابق، اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، لیکن محکمے کے اندر اس تبدیلی کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، ایڈ مارٹن کی تنزلی سے ان ریپبلکن قانون سازوں کو ایک بڑی جیت ملی ہے جو مسلسل ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
ایڈ مارٹن کا محکمہ انصاف سے جانا یا ان کی حیثیت کا کم ہونا امریکی عدالتی نظام میں جاری رسہ کشی کا عکاس ہے۔ این بی سی نیوز (NBC News) کی رپورٹ کے مطابق، یہ واقعہ آئندہ انتخابات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ایڈ مارٹن (ed martin) کی شخصیت اور ان کے اقدامات اب بھی بحث کا مرکز ہیں۔ سی این این (CNN) کا خلاصہ ہے کہ ان کی روانگی سے محکمہ انصاف میں ایک بڑے خلا کے ساتھ ساتھ نئی تقرریوں کا موقع بھی پیدا ہوگا۔ واشنگٹن پوسٹ (Washington Post) کے مطابق، یہ تبدیلی ثابت کرتی ہے کہ عوامی اور سیاسی دباؤ کے سامنے کبھی کبھی طاقتور ترین عہدیداروں کو بھی پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔

