بنگلہ دیش کے تاریخی انتخابات: جمہوریت کی بحالی اور ایک نئے دور کی امید
بنگلہ دیش (Bangladesh Elections) میں 12 فروری 2026 کا دن محض ایک انتخابی دن نہیں تھا، بلکہ یہ 17 سال کے طویل انتظار کے بعد جمہوریت کی ایک نئی صبح کا آغاز تھا۔ 2024 میں طالب علموں کی قیادت میں ہونے والے شدید احتجاج کے نتیجے میں سابقہ حکومت کے خاتمے کے بعد، یہ پہلے انتخابات تھے جنہوں نے ملک کے سیاسی منظرنامے کو یکسر تبدیل کرنے کی بنیاد رکھی۔ عوام میں جوش و خروش عروج پر تھا، اور پولنگ اسٹیشنوں پر لمبی قطاریں اس بات کی گواہی دے رہی تھیں کہ لوگ تبدیلی کے لیے کس قدر بے تاب ہیں۔ یہ انتخابات صرف ایک نئی حکومت کا انتخاب نہیں تھے، بلکہ یہ ملک کے مستقبل کی سمت کا تعین کرنے اور ان آئینی اصلاحات پر ایک ریفرنڈم بھی تھے جن کا وعدہ جولائی چارٹر میں کیا گیا تھا۔
انتخابی میدان کے مرکزی کردار
اس تاریخی انتخاب کا بنیادی مقابلہ دو بڑی سیاسی قوتوں کے درمیان تھا۔ ایک طرف طارق رحمان کی قیادت میں بنگلہ دیش (Bangladesh Elections) نیشنلسٹ پارٹی (BNP) تھی، جو ایک عرصے سے ملک کی اہم اپوزیشن جماعت رہی ہے۔ دوسری طرف، 11 جماعتوں کا ایک نیا اتحاد تھا جس کی قیادت جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمٰن کر رہے تھے۔ اس اتحاد کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں 2024 کی عوامی تحریک سے ابھرنے والے طالب علم رہنماؤں کی بنائی گئی نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP) بھی شامل تھی، جس نے اسے ایک نیا اور غیر متوقع سیاسی وزن بخشا۔ اگرچہ رائے عامہ کے جائزے بی این پی کے رہنما طارق رحمان کو وزارت عظمیٰ کے لیے سب سے آگے دکھا رہے تھے، لیکن جماعت اسلامی کی قیادت میں بننے والا اتحاد ایک بڑا سرپرائز دینے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ پارلیمنٹ کی 350 نشستوں میں سے 300 پر براہ راست انتخابات ہوئے، جبکہ 50 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص تھیں۔ ایک امیدوار کے انتقال کے باعث 299 نشستوں پر پولنگ ہوئی۔
عوام کی آواز: ایک تہوار کا سماں
دارالحکومت ڈھاکہ سمیت ملک بھر کے پولنگ اسٹیشنوں پر ماحول کسی تہوار سے کم نہیں تھا۔ لوگوں کے چہروں پر امید اور خوشی کی لہر نمایاں تھی۔ ایک سابق استاد، حسن الحق نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا، "یہ ایک تہوار کی طرح محسوس ہو رہا ہے۔ میں 17 سال بعد آزادانہ طور پر اپنا ووٹ ڈال رہا ہوں، اور مجھے یقین ہے کہ اس بار ہمارے ووٹ کی قدر ہوگی۔" 2008 کے بعد ہونے والے انتخابات کو عوام کی اکثریت نے یکطرفہ اور دھاندلی زدہ قرار دیا تھا، جس کی وجہ سے لوگ انتخابی عمل سے مایوس ہو چکے تھے۔ لیکن اس بار، نوجوان ووٹرز، خصوصاً وہ جنہوں نے پہلی بار اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، سب سے زیادہ پرجوش نظر آئے۔ ڈھاکہ سٹی کالج کی 21 سالہ طالبہ شتھی گوسوامی نے کہا، "گزشتہ چند سالوں میں ہم نے جو کچھ برداشت کیا ہے، اس کے بعد اب کچھ مثبت ہونے کا وقت ہے۔" یہ جذبات صرف ان کے نہیں تھے، بلکہ یہ اس پوری نسل کی آواز تھے جو ایک نئے اور جمہوری بنگلہ دیش کا خواب دیکھ رہی تھی۔
قربانیوں کا ثمر: تبدیلی کی بھاری قیمت
یہ آزادی اور جمہوریت کی بحالی آسانی سے نہیں ملی۔ 2024 کی تحریک کے دوران بہت سے خاندانوں نے اپنے پیاروں کو کھویا۔ انہی میں سے ایک میڈیکل کے طالب علم سیف احمد خان کا خاندان بھی تھا، جنہوں نے اپنے والد کو اس تحریک میں کھو دیا۔ انہوں نے کہا، "پچھلی حکومت ہمارے شہریوں کے بنیادی حقوق چھین رہی تھی، اور ہمارے والد نے اسی تبدیلی کے لیے اپنی جان دی۔" ان جیسے ہزاروں خاندانوں کی قربانیاں اس انتخابی عمل کو مزید مقدس بنا رہی تھیں۔ لوگ فخر اور غم کے ملے جلے جذبات کے ساتھ ووٹ ڈالنے آئے، اس عزم کے ساتھ کہ ان کے پیاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
شفاف انتخابی عمل اور نتائج کا انتظار
ووٹنگ کا عمل ختم ہونے کے بعد، ووٹوں کی گنتی کا مرحلہ شروع ہوا۔ الیکشن کمیشن نے شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایک منظم طریقہ کار وضع کیا تھا۔ ہر پولنگ اسٹیشن پر گنتی کے بعد نتائج کا اعلان کیا گیا، جس پر تمام امیدواروں کے ایجنٹوں نے دستخط کیے۔ اس کے بعد ان نتائج کو مرکزی ریٹرننگ آفیسر کے پاس پہنچایا گیا، جہاں سے انہیں الیکشن کمیشن کے مرکزی نظام میں اپ لوڈ کیا گیا۔ اگرچہ سرکاری نتائج کی ویب سائٹ کچھ تکنیکی مسائل کا شکار رہی، لیکن مقامی میڈیا اور سیاسی جماعتیں غیر سرکاری نتائج مسلسل نشر کر رہی تھیں۔ بی این پی نے اپنے رہنما طارق رحمان کی دونوں نشستوں پر کامیابی کا دعویٰ کیا، جبکہ جماعت اسلامی کے امیدوار بھی کئی حلقوں میں مضبوط پوزیشن میں نظر آئے۔ جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمٰن نے کہا کہ اگر کوئی بڑی بے ضابطگی نہ ہوئی تو وہ نتائج کو قبول کریں گے، چاہے کوئی اور کرے یا نہ کرے۔
سیاسی منظر نامہ اور مستقبل کے چیلنجز
یہ انتخابات شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کے 15 سالہ دور اقتدار کے خاتمے کے بعد ہوئے، جن کی حکومت پر 2024 کے احتجاج کے دوران شدید کریک ڈاؤن اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات تھے۔ عوامی لیگ کو اس الیکشن میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا اور اس کی قیادت کو قانونی مقدمات کا سامنا ہے۔ نگران حکومت، جس کی سربراہی نوبل انعام یافتہ محمد یونس کر رہے تھے، نے ان انتخابات کو ایک نئے آغاز سے تعبیر کیا۔ بی این پی کے رہنما طارق رحمان نے اپنی ترجیح ملک میں امن و امان کی بحالی قرار دی، جبکہ جماعت اسلامی نے تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ آنے والی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ملک کو معاشی اور سیاسی طور پر مستحکم کرنا ہوگا اور ان آئینی اصلاحات کو نافذ کرنا ہوگا جن کا عوام سے وعدہ کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی تناظر اور خارجہ پالیسی
ان انتخابات پر عالمی طاقتوں کی بھی گہری نظر تھی۔ خاص طور پر چین، جس نے 2024 کے بعدبنگلہ دیش (Bangladesh Elections) میں بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی ہے۔ نگران حکومت کے دور میں چین، بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان سہ فریقی اجلاس اور نگران وزیراعظم محمد یونس اور آرمی چیف کے دورہ بیجنگ نے اس خطے میں ایک نئی اسٹریٹجک تبدیلی کا اشارہ دیا ہے۔ یہ روایتی ڈھاکہ-دہلی محور سے ایک واضح تبدیلی تھی، کیونکہ شیخ حسینہ کی حکومت کے دوران بھارت کے ساتھ تعلقات انتہائی گہرے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نئی آنے والی حکومت خارجہ پالیسی کے محاذ پر کس طرح توازن قائم کرتی ہے اور اپنے قومی مفادات کا تحفظ کیسے کرتی ہے۔
بنگلہ دیش کے 2026 کے انتخابات صرف ایک حکومت کی تبدیلی کا نام نہیں، بلکہ یہ عوام کی فتح، جمہوریت کی بحالی اور ایک روشن مستقبل کی امید ہیں۔ کئی سال کی سیاسی بے یقینی اور جبر کے بعد، بنگلہ دیشی عوام نے اپنے ووٹ کی طاقت سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں۔ اب ذمہ داری نئی منتخب قیادت پر ہے کہ وہ عوام کے اعتماد پر پورا اترے اور ملک کو ترقی، انصاف اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرے۔

