پاکستان میں بڑھتے ہوئے رجحان کا اور قوم کی ترجیحات کا ایک الگ ہی میعار ہے اور یہ سب تربیت پر منحصر ہے اب سوشل میڈیا پر عروسہ خان (aroosa khan) کی نازیبا ویڈیوز وائرل وائرل ہو رہی ہیں
عروسہ خان (aroosa khan)کی مبینہ نازیبا ویڈیوز وائرل: کیا یہ شہرت کا راستہ ہے یا کسی کی زندگی کی تباہی؟
پاکستان میں سوشل میڈیا کا استعمال جہاں معلومات اور تفریح کے لیے بڑھ رہا ہے، وہیں گزشتہ چند سالوں سے "ویڈیو لیک" (Video Leak) کا ایک خطرناک رجحان بھی سامنے آیا ہے۔ حالیہ دنوں میں معروف ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر عروسہ خان (Aroosa Khan) ایک بڑے تنازع کی زد میں آگئی ہیں، جب ان کی چند مبینہ نازیبا ویڈیوز انٹرنیٹ پر تیزی سے پھیل گئیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر پاکستانی ڈیجیٹل صارفین کے درمیان اخلاقیات، رازداری (Privacy) اور سائبر قوانین پر بحث چھیڑ دی ہے۔
عروسہ خان کون ہیں؟ (Who is Aroosa Khan)
عروسہ خان کا شمار پاکستان کی ان ابھرتی ہوئی سوشل میڈیا شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے بہت کم وقت میں اپنی ویڈیوز اور اسٹائل کے ذریعے لاکھوں فالوورز بنائے۔ تاہم، حالیہ وائرل ویڈیو اسکینڈل نے ان کے کیریئر اور ساکھ کو ایک مشکل امتحان میں ڈال دیا ہے۔
وائرل ویڈیو کا تنازع ، کیا ہوا؟ (The Viral Video Controversy)
گزشتہ چند گھنٹوں سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز خصوصاً ٹویٹر (X)، ٹیلی گرام اور واٹس ایپ گروپس میں عروسہ خان کی وائرل ویڈیو (Aroosa Khan Viral Video) کے چرچے ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ ویڈیوز نجی نوعیت کی ہیں اور کسی نے انہیں بغیر اجازت انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کر دیا ہے۔ ویڈیوز کے وائرل ہوتے ہی انٹرنیٹ صارفین دو گروہوں میں بٹ گئے ہیں۔ ایک گروہ ان ویڈیوز کو تلاش کرنے اور شیئر کرنے میں مصروف ہے، جبکہ دوسرا گروہ اسے کسی کی نجی زندگی پر حملہ قرار دے کر مذمت کر رہا ہے۔
عروسہ خان کی خاموشی:
کوئی بیان سامنے نہ آیا اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ توجہ طلب بات یہ ہے کہ اب تک عروسہ خان (Aroosa Khan) کی جانب سے اس تنازع پر کوئی باقاعدہ ردعمل یا وضاحتی بیان سامنے نہیں آیا۔ عموماً ایسے واقعات میں متاثرہ شخصیت یا تو اپنا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ڈی ایکٹیویٹ (Deactivate) کر دیتی ہے یا پھر قانونی کارروائی کا اعلان کرتی ہے۔ تاہم، عروسہ خان کی خاموشی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے:
کیا یہ ویڈیوز واقعی ان کی ہیں یا انہیں اے آئی (AI) اور ڈیپ فیک (Deepfake) ٹیکنالوجی کے ذریعے بنایا گیا ہے؟
کیا ان کا فون ہیک ہوا ہے یا کسی قریبی شخص نے دھوکہ دیا ہے؟
خاموشی کا مقصد معاملے کو ٹھنڈا کرنا ہے یا وہ قانونی مشاورت کر رہی ہیں؟
پاکستان میں "لیک کلچر" کا بڑھتا ہوا رجحان عروسہ خان پہلی خاتون نہیں ہیں جنہیں اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس سے قبل مناہل ملک (Minahil Malik)، امشا رحمان (Imsha Rehman) اور زوبیر نثار جیسے نام بھی اسی طرح کے اسکینڈلز کا شکار ہو چکے ہیں۔
اس رجحان کے پیچھے کئی وجوہات ہو سکتی ہیں:
بلیک میلنگ: کسی کو بدنام کرنے یا رقم بٹورنے کے لیے نجی مواد کا استعمال۔
سستی شہرت: بعض اوقات فالوورز بڑھانے کے لیے جان بوجھ کر تنازعات پیدا کیے جاتے ہیں (اگرچہ یہ ایک خطرناک راستہ ہے)۔
ذاتی دشمنی: رشتوں میں دراڑ آنے کے بعد ایک فریق دوسرے کی نجی ویڈیوز لیک کر دیتا ہے۔
سائبر کرائم قوانین اور ایف آئی اے (FIA Cybercrime Laws) پاکستان میں کسی کی نجی تصاویر یا ویڈیوز کو اس کی مرضی کے بغیر وائرل کرنا ایک سنگین جرم ہے۔ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کے تحت اس طرح کی حرکت کرنے والے شخص کو جرمانے اور قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (FIA) کا سائبر کرائم ونگ ایسے معاملات کی تحقیقات کرتا ہے۔
عروسہ خان اگر چاہیں تو وہ ان افراد کے خلاف شکایت درج کروا سکتی ہیں جنہوں نے ان کی ویڈیوز اپ لوڈ یا شیئر کی ہیں۔
عوام کی ذمہ داری:
کیا ہمیں یہ ویڈیوز شیئر کرنی چاہئیں؟
ایک ذمہ دار شہری اور انٹرنیٹ صارف کے طور پر ہماری بھی کچھ اخلاقی ذمہ داریاں ہیں:
ویڈیو تلاش نہ کریں: کسی کی نجی زندگی کی ٹہو میں لگنا اخلاقی اور مذہبی طور پر غلط ہے۔
لنکس شیئر نہ کریں: ایسی ویڈیوز کو آگے بھیجنا جرم میں برابر کا شریک ہونے کے مترادف ہے۔
رپورٹ کریں: اگر آپ کو کہیں ایسا مواد نظر آئے تو اسے پلیٹ فارم پر رپورٹ کریں تاکہ اسے ہٹایا جا سکے۔
نفسیاتی اثرات اور سوشل میڈیا کا دباؤ اس طرح کے واقعات متاثرہ شخص کی ذہنی صحت پر تباہ کن اثرات مرتب کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہونے والی ٹرولنگ (Trolling) اور تنقید انسان کو ڈپریشن کا شکار بنا سکتی ہے۔ عروسہ خان(aroosa khan) کی موجودہ خاموشی شاید کسی مصلحت کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ معاشرے کو چاہیے کہ وہ کسی کی کردار کشی کرنے کے بجائے معاملے کی حقیقت سامنے آنے کا انتظار کرے۔

