سوشل میڈیا کے دور میں " وائرل ویڈیوز (Viral Videos)" جہاں راتوں رات کسی کو شہرت دلاتا ہے، وہیں کئی دفعہ یہ سنگین تنازعات اور پرائیویسی کی خلاف ورزی کا سبب بھی بنتا ہے۔ بالی ووڈ لائف (Bollywood Life)، لیٹیسٹ لی (LatestLY) اور نیوز ایکس (NewsX) کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، انٹرنیٹ پر اس وقت وائرل ویڈیوز (Viral Videos) کا ایک نیا طوفان برپا ہے، جس میں پاکستان اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات کے مبینہ نجی کلپس گردش کر رہے ہیں۔ ان ویڈیوز کے پھیلاؤ نے ڈیجیٹل سیکیورٹی اور اخلاقیات پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بالی ووڈ لائف (Bollywood Life) کی رپورٹ کے مطابق، سوشل میڈیا پر 12 منٹ اور 46 سیکنڈ کے ایک مبینہ ویڈیو کلپ کے بارے میں کافی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ صارفین میں تجسس ہے کہ کیا یہ ویڈیو حقیقت میں وجود رکھتی ہے یا یہ محض کلک بیٹ (Clickbait) کا ایک حربہ ہے۔
نیوز ایکس (NewsX) کے مطابق، ان وائرل ویڈیوز (Viral Videos) کے پیچھے سائبر کرائم گروہ بھی ملوث ہو سکتے ہیں جو ٹریفک حاصل کرنے کے لیے سنسنی خیز عنوانات کا استعمال کرتے ہیں۔ رپورٹ میں فاطمہ جتوئی اور آروہی میم جیسی شخصیات کا تذکرہ کیا گیا ہے جن کے ناموں سے کلپس وائرل ہو رہے ہیں۔
لیٹیسٹ لی (LatestLY) کی ایک خصوصی رپورٹ میں بنگلہ دیشی اداکارہ آروہی میم (Arohi Mim) کے پروفائل اور ان کی فلمی زندگی پر روشنی ڈالی گئی ہے، جو اس وقت اس تنازع کی زد میں ہیں۔
نیوز ایکس (NewsX) کے مطابق، حیران کن طور پر یہ وائرل ویڈیوز (Viral Videos) بھارتی سوشل میڈیا فیڈز پر بھی تیزی سے نظر آ رہی ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سرحد پار ڈیجیٹل مواد کس طرح تیزی سے پھیلتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر ایسی ویڈیوز ڈیپ فیک (Deepfake) ٹیکنالوجی کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہیں جن کا مقصد کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔
بالی ووڈ لائف (Bollywood Life) کے مطابق، مداحوں اور صارفین کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ایسی مشکوک لنکس پر کلک کرنے سے گریز کریں کیونکہ یہ ہیکنگ کا سبب بن سکتے ہیں۔
نیوز ایکس (NewsX) کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان اور بنگلہ دیش میں اس حوالے سے سخت قوانین موجود ہیں، لیکن ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر قابو پانا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ان وائرل ویڈیوز (Viral Videos) کی حقیقت جاننے کے لیے لوگ بے چین نظر آتے ہیں، لیکن اخلاقی طور پر ایسی ویڈیوز کو شیئر کرنا کسی کی ذاتی زندگی میں مداخلت کے زمرے میں آتا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے یہ کلپس اس وقت انٹرنیٹ کا سب سے متنازعہ موضوع بنے ہوئے ہیں۔
لیٹیسٹ لی (LatestLY) کی رپورٹ کے مطابق، آروہی میم نے ان الزامات پر اب تک خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
نیوز ایکس (NewsX) کے مطابق، ان وائرل ویڈیوز (Viral Videos) کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سائبر سیکیورٹی اداروں کو مزید متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔ صارفین کو چاہیے کہ وہ کسی بھی مواد کی تصدیق کیے بغیر اسے آگے بڑھانے سے گریز کریں تاکہ کسی کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔

