سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک دلچسپ اور مزاحیہ "برڈ تھیوری" (Bird Theory) کا تذکرہ کیا گیا ہے جس نے انٹرنیٹ صارفین، خصوصاً مغربی ممالک کے لوگوں کو ایک نئی بحث میں الجھا دیا ہے۔ اس تھیوری کا دعویٰ ہے کہ "پرندوں کو پہچاننا یا ان میں دلچسپی لینا" ایک ایسی چیز ہے جو تمام سفید فام (White People) لوگوں میں قدرتی طور پر مشترک ہوتی ہے۔
ٹک ٹاک اور ایکس (ٹویٹر) پر شروع ہونے والا یہ ٹرینڈ اب ایک سماجی مطالعہ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس وائرل تھیوری کی شروعات ایک ٹک ٹاک ویڈیو سے ہوئی جس میں ایک صارف نے دعویٰ کیا کہ جیسے ہی سفید فام افراد ایک خاص عمر (عموماً 30 سال کے بعد) کو پہنچتے ہیں، ان میں اچانک پرندوں کے مشاہدے (Birdwatching) کا شوق بیدار ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے گھروں کے باہر پرندوں کے لیے دانے ڈالنے والے برتن (Bird Feeders) لگاتے ہیں اور پرندوں کی مختلف نسلوں کے بارے میں معلومات جمع کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
تھیوری کے اہم نکات اور عوامی ردِعمل:
عمر کا تقاضا: صارفین کا کہنا ہے کہ یہ کوئی نسلی امتیاز نہیں بلکہ ایک "لائف اسٹائل شفٹ" ہے جو اکثر متوسط عمر کے افراد میں دیکھا جاتا ہے جب وہ فطرت کے قریب ہونا چاہتے ہیں۔
عادت کی یکسانیت: ہزاروں صارفین نے کمنٹس میں اعتراف کیا کہ ان کے والدین یا وہ خود اچانک اس بات پر پرجوش ہو جاتے ہیں کہ "دیکھو! آج ہمارے صحن میں کارڈینل (Cardinal) یا بلیو جے (Blue Jay) آیا ہے"۔
ثقافتی فرق: اس ٹرینڈ کے دوران دیگر نسلوں کے لوگوں نے بھی حصہ لیا اور بتایا کہ ان کی ثقافتوں میں پرندوں کے بارے میں کیا تصورات پائے جاتے ہیں، جس سے یہ بحث ایک دلچسپ ثقافتی تبادلے میں بدل گئی۔
نیوزذرائع کے مطابق، ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ "برڈ واچنگ" دراصل ذہنی تناؤ کو کم کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ 2026 کے اس ڈیجیٹل دور میں جہاں ہر طرف اسکرینز کا راج ہے، پرندوں کو دیکھنا اور ان کی آوازیں سننا لوگوں کو سکون فراہم کرتا ہے۔ اسی لیے اسے "وائٹ پیپل تھنگ" کہنے کے باوجود، یہ شوق اب ہر طبقے اور نسل کے لوگوں میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر اس تھیوری نے جہاں مزاح پیدا کیا ہے، وہاں لوگوں کو اس بات پر بھی مجبور کیا ہے کہ وہ اپنے اردگرد موجود چھوٹی چھوٹی قدرتی خوبصورتیوں پر توجہ دیں۔ صارفین اب اسے "برڈ واچنگ ہابی" کے بجائے ایک "ایونٹ" کے طور پر دیکھ رہے ہیں جہاں وہ ایک دوسرے کے ساتھ پرندوں کی تصاویر شیئر کرتے ہیں۔
یہ وائرل تھیوری ثابت کرتی ہے کہ انٹرنیٹ کس طرح سادہ سی انسانی عادات کو ایک عالمی بحث اور تفریح کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔ چاہے یہ صرف ایک مخصوص طبقے کی عادت ہو یا سب کی، پرندوں سے محبت بہرحال ایک مثبت رجحان ہے۔

