دنیا کی سیاسی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہوا ہے جب وینیزویلا صدر (Venezuela President) نیکولاس میادو (Nicolás Maduro) کو امریکی افواج نے مبینہ طور پر ایک سخت فوجی کارروائی میں گرفتار کیا اور انہیں ملک سے باہر لے جایا گیا ہے۔ یہ حیران کن واقعہ 3 جنوری 2026 کی صبح پیش آیا، جس نے امریکہ (United States) اور وینیزویلا (Venezuela) کے تعلقات کو ایک انتہائی متنازع اور تاریخی مرحلے پر پہنچا دیا ہے۔
صدر نیکولاس میادو (Nicolás Maduro) طویل عرصے سے وینیزویلا (Venezuela) کی سیاست میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے اور ان کے خلاف امریکہ نے گزشتہ دو دہائیوں میں سخت دباؤ بڑھایا تھا۔ امریکہ کے الزام کے مطابق میادو اور ان کی حکومت نے ملک کو ایک "ناکو-اسٹیٹ" (narco-state) میں تبدیل کر دیا تھا، جس نے خطرناک منشیات، بدعنوانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے گزشتہ برسوں میں وینیزویلا کے خلاف سخت پالیسی اختیار کی، جس میں امریکہ نے وینیزویلا کے مشہور تیل کے شعبے (oil reserves) اور بین الاقوامی منشیات کے راستوں کے خلاف مختلف فوجی اور خفیہ خدماتی اقدامات کیے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے CIA (Central Intelligence Agency) اور امریکی فوجی انٹیلی جنس کو وینیزویلا میں خفیہ معلومات جمع کرنے اور حکومتی سطح پر دباؤ بڑھانے کی ہدایت دی۔
حالیہ فوجی مہم جس کا نام "Operation Absolute Resolve" رکھا گیا تھا، اسی اقدامات کا نتیجہ تھی۔ امریکی افواج، خاص طور پر Delta Force نامی خصوصی دستے نے Caracas (وینیزویلا کی دارالحکومت) میں واقع محفوظ کمپاؤنڈ پر پیش قدمی کی۔ اس میں ساتھی ہیلکپٹروں اور فضائی مدد کے ساتھ وینیزویلا صدر اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کیا گیا اور انہیں طیارے کے ذریعے امریکہ لے جایا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق میادو کے خلاف امریکہ نے پہلے سے ہی 2020 میں نیویارک کی وفاقی عدالت میں منشیات اور بین الاقوامی دہشت گردی کے الزامات عائد کیے تھے، اور اس گرفتاری کو اسی وارنٹ کا نفاذ بتایا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ (Trump) نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ امریکہ اب وینیزویلا (Venezuela) کو "ایک محفوظ، مناسب اور منظم عبوری حکومت تک صحیح طریقے سے پہنچنے تک چلائے گا" اور امریکی کمپنیوں، خاص طور پر تیل کے شعبے میں سرمایہ کاری کرے گا۔
بین الاقوامی سطح پر اس کارروائی پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ کئی ممالک، خاص طور پر روس (Russia) اور ایران (Iran)، نے امریکہ کی اس مداخلت کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ (United Nations) کے سیکورٹی کونسل کے ممبران نے ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔
دوسری طرف وینیزویلا کی نائب صدر (Vice President) ڈیلسی روڈریگز (Delcy Rodríguez) نے عوامی طور پر اعلان کیا ہے کہ میادو ہی وینیزویلا کے "واحد صدر" ہیں اور امریکہ کی طاقت کے ذریعے کی گئی گرفتاری کو "غیر قانونی اور غیر انسانی" قرار دیا ہے۔ انہیں آئینی طور پر عبوری صدر مقرر کرنے کے رسمی اقدامات بھی شروع ہو چکے ہیں، جبکہ فوجی افواج نے ملک بھر میں سیکیورٹی بڑھا دی ہے۔
یہ پہلی بار ہے کہ امریکہ نے جنوبی امریکہ (South America) میں براہ راست فوجی حملہ کیا ہے، جس کا موازنہ 1989 کی پاناما (Panama) میں مداخلت سے کیا جا رہا ہے، جس میں امریکی فوج نے وہاں کے حکمران Manuel Noriega کو گرفتار کیا تھا۔ معتبر تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے اقدامات اکثر طویل اور پیچیدہ سیاسی مسائل کو جنم دیتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں مستحکم عبوری حکومت کا قیام مشکل ہو جاتا ہے۔
اس وقت وینیزویلا (Venezuela) ایک کشیدہ سیاسی مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں عالمی طاقتیں، اقتصادی مفادات، تیل کے ذخائر، اور جمہوری حقوق کے تحفظ جیسے موضوعات ایک ساتھ الجھے ہوئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جب امریکی عبوری حکمران اور مقامی سیاسی جماعتیں اپنے موقف کو مضبوط کریں گے۔
یہ عالمی سیاسی منظر نامہ آج کے عالمی تعلقات، فوجی اصولوں، اور بین الاقوامی قانون کی حدود کے حوالے سے بہت سے سوالات کھڑا کرتا ہے، جس کے جوابات دنیا بھر کے مبصرین، حکومتوں اور تجزیہ کاروں کے لیے اگلے ہفتوں اور مہینوں میں انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔

