وینزویلا (Venezuela) کے عوام نے سوشل میڈیا (Social Media) پر مغرب اور بالخصوص امریکہ (America) کے مراعات یافتہ طبقے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان کی زندگی کی جدوجہد اور ملکی حالات کی وضاحتیں پیش کرنا بند کریں۔ یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو (Nicolás Maduro) کی گرفتاری اور ملک کے انتظام کو عارضی طور پر سنبھالنے کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر تبصروں کا ایک طوفان کھڑا ہو گیا ہے۔ وینزویلا کے شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ لوگ جو کبھی ان کے ملک نہیں آئے، وہ انہیں ان کی اپنی تاریخ اور تکالیف کے بارے میں نہ سمجھائیں، جسے انہوں نے "وینزویلا سپلیننگ" (Venezuelasplaining) کا نام دیا ہے۔
حالیہ واقعات کے مطابق، 3 جنوری کو امریکہ (USA) نے ایک حیرت انگیز آپریشن کے دوران صدر نکولس مادورو (Nicolás Maduro) اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے نیویارک (New York) منتقل کر دیا، جہاں ان پر منشیات کی اسمگلنگ (Narco-trafficking) کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس کارروائی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے اعلان کیا کہ امریکہ اس وقت تک وینزویلا کا انتظام چلائے گا جب تک وہاں ایک مناسب اور منصفانہ جمہوری منتقلی (Democratic Transition) مکمل نہیں ہو جاتی۔ اس صورتحال نے جہاں عالمی سطح پر قانونی اور اخلاقی بحث کو جنم دیا، وہیں وینزویلا کے عام شہریوں کے لیے یہ ایک ملے جلے جذبات کا باعث بنی، جن میں ریلیف اور مستقبل کا خوف دونوں شامل ہیں۔
ٹک ٹاک (TikTok) اور دیگر پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں وینزویلا کی نوجوان نسل نے مغربی تجزیہ کاروں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ انا کالڈیرا (Anna Caldera) نامی ایک متاثرہ خاتون، جو اب اسپین (Spain) میں مقیم ہیں، کا کہنا ہے کہ "مراعات یافتہ لوگوں کا ہمیں ہمارا دکھ سمجھانا ایسا ہی ہے جیسے کوئی آپ کو آپ کے اپنے جسم کے بارے میں بتائے۔" انہوں نے اپنی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے بھوک دیکھی، اپنی بہن کو مناسب غذا کے بغیر بڑھتے دیکھا اور لوگوں کو محض اختلافِ رائے پر قتل ہوتے دیکھا۔ ان کے بقول، جو لوگ دور بیٹھ کر محض نظریاتی بحث (Ideological Debate) کر رہے ہیں، وہ ان زخموں کو نہیں سمجھ سکتے جو اس آمریت نے انہیں دیے ہیں۔
ایک اور اہم نکتہ جو اس بحث میں اٹھایا گیا وہ تیل کے ذخائر (Oil Resources) کا ہے۔ بہت سے مغربی مبصرین یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ امریکہ صرف تیل پر قبضہ کرنے کے لیے مداخلت کر رہا ہے۔ اس کے جواب میں وینزویلا کے شہریوں، جیسے اینڈریا مارٹینز (Andrea Martínez)، کا کہنا ہے کہ "ہم نے دہائیوں سے اس تیل کا ایک روپیہ نہیں دیکھا۔" ان کا موقف ہے کہ اگر تیل کی قیمت پر ان کے ملک سے بھوک اور تشدد کے مراکز (Torture Centers) کا خاتمہ ہوتا ہے، تو وہ اس سودے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نظریاتی بحثیں (Ideals) اس وقت معنی کھو دیتی ہیں جب آپ کے دوستوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہو اور آپ کے پاس کھانے کو کچھ نہ ہو۔
واشنگٹن کالج (Washington College) کی ماہرِ سیاست ڈاکٹر کرسٹین جے ویڈ (Dr. Christine J. Wade) کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں "انفلوئنسرز" (Influencers) سطحی معلومات کی بنیاد پر پیچیدہ مسائل پر تبصرے کرتے ہیں، جس سے اصل متاثرین کی آواز دب جاتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وینزویلا کی صورتحال ایک پیچیدہ تاریخ (Complicated History) کا نتیجہ ہے اور اسے صرف ایک نظریے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ کچھ وینزویلا کے شہری اب بھی ہیوگو شاویز (Hugo Chávez) کو ایک تحریک کے طور پر دیکھتے ہیں اور وہ امریکی مداخلت (American Intervention) کو مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتے ہیں، لیکن اکثریت اس وقت صرف امن اور تبدیلی کی خواہاں ہے۔
خیر وینزویلا کے عوام دنیا سے ہمدردی اور دعا (Prayers) کے طلبگار ہیں، نہ کہ غیر ضروری تقاریر اور وضاحتوں کے۔ ان کا پیغام واضح ہے: "ہمیں معلوم ہے کہ غیر ملکی مداخلت کے خطرات کیا ہیں، لیکن ہم نے جو جھیلا ہے وہ آپ کے وہم و گمان سے بھی باہر ہے۔" اس وقت وینزویلا ایک تاریخی موڑ پر کھڑا ہے، جہاں ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) کا سخت گیر کنٹرول ہے اور دوسری طرف ایک ایسی قوم کی امیدیں ہیں جو 25 سال سے زائد عرصے سے جاری بحران (Crisis) سے نکلنے کے لیے تڑپ رہی ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ ان کی آواز کو سنیں، بجائے اس کے کہ ان پر اپنی آراء مسلط کریں۔

