امریکی سپریم کورٹ (US Supreme Court) اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) کے درمیان تجارتی پالیسیوں پر جاری قانونی رسہ کشی نے عالمی معیشت اور اسٹاک مارکیٹوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ بلومبرگ (Bloomberg)، انڈیا ٹوڈے (India Today) اور فوربس انڈیا (Forbes India) کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، بدھ کے روز امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے متنازعہ ٹیرفس (Tariffs) یعنی درآمدی ڈیوٹیوں کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ جاری نہیں کیا۔ اس تاخیر نے جہاں انڈسٹری کے بڑے کھلاڑیوں کو انتظار کی سولی پر لٹکا دیا ہے، وہی ٹرمپ انتظامیہ کی اقتصادی حکمتِ عملی پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
انڈیا ٹوڈے (India Today) کی رپورٹ کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے سپریم کورٹ کی جانب سے ٹیرفس کے خلاف ممکنہ فیصلے پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ ڈیوٹیاں ختم کر دی گئیں تو "ہماری معیشت تباہ ہو جائے گی" (We are screwed)۔
ٹرمپ کا موقف ہے کہ یہ ٹیرفس امریکی صنعتوں کے تحفظ اور غیر ملکی مسابقت کو روکنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ تاہم، قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا صدر کے پاس "انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ" (IEEPA) کے تحت اس قدر وسیع پیمانے پر ٹیکس لگانے کا اختیار ہے یا نہیں۔
فوربس انڈیا (Forbes India) کے لائیو بلاگ کے مطابق، اس عدالتی فیصلے کا براہِ راست اثر بھارت (India) جیسے بڑے تجارتی شراکت داروں پر بھی پڑے گا۔ اگر سپریم کورٹ ٹرمپ کے اقدامات کو غیر قانونی قرار دے دیتی ہے، تو اس سے بھارتی برآمدات بالخصوص اسٹیل اور ایلومینیم کی صنعت کو بڑا ریلیف مل سکتا ہے۔
بلومبرگ (Bloomberg) نے رپورٹ کیا ہے کہ بدھ کے روز عدالتی رائے (Opinion) سامنے نہ آنے کا مطلب یہ ہے کہ عالمی منڈیاں اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار رہیں گی۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ ٹیرفس کے معاملے پر عدالتی مداخلت سے ٹرمپ کی "سب سے پہلے امریکہ" (America First) کی تجارتی پالیسی کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔
تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ "آئی ای ای پی اے" (IEEPA) کا استعمال ماضی میں کبھی اس طرح نہیں کیا گیا جس طرح ٹرمپ انتظامیہ کر رہی ہے۔ انڈیا ٹوڈے (India Today) کے مطابق، سپریم کورٹ کے ججوں کے درمیان اس معاملے پر گہری تقسیم دیکھی جا رہی ہے۔ ایک طرف صدارتی اختیارات کا تحفظ ہے اور دوسری طرف کانگریس کے تجارتی اختیارات کی بقا۔
فوربس انڈیا (Forbes India) کے مطابق، اگر سپریم کورٹ ٹیرفس کے خلاف فیصلہ دیتی ہے، تو یہ ٹرمپ کی صدارت کا اب تک کا سب سے بڑا معاشی دھچکا ہوگا، جس سے امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیاء کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں لیکن مقامی مینوفیکچررز کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔
پوری دنیا کی نظریں اب امریکی سپریم کورٹ کے اگلے اجلاس پر لگی ہیں۔ بلومبرگ (Bloomberg) کے مطابق، عدالت کی جانب سے بدھ کو خاموشی اس بات کا اشارہ ہے کہ ججز کسی انتہائی پیچیدہ قانونی حل پر غور کر رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) کی جارحانہ تجارتی جنگ اب اپنی تقدیر کے فیصلے کے لیے عدالت کے کٹہرے میں ہے، اور اس کا جو بھی نتیجہ نکلے گا، وہ عالمی تجارت کے مستقبل کا رخ متعین کرے گا۔
انڈیا ٹوڈے (India Today) کے مطابق، ٹرمپ کے حامیوں اور مخالفین دونوں کے لیے یہ فیصلہ 2026 کے معاشی منظرنامے میں ایک زلزلے کی حیثیت رکھتا ہے۔

