امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کے معاملے پر ناروے کو لکھے گئے ایک "غیر معمولی" خط نے عالمی سفارت کاری اور واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ بی بی سی (BBC)، فنانشل ٹائمز (FT) اور اسکائی نیوز (Sky News) کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، اس خط کے لب و لہجے اور مندرجات نے صدر کی ذہنی استعداد اور ان کی انتظامی صلاحیتوں پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اسی تناظر میں، امریکی آئین کی 25ویں ترمیم (25th Amendment) کا تذکرہ ایک بار پھر شدت سے کیا جا رہا ہے، جو کسی بھی صدر کو نااہل قرار دے کر عہدے سے ہٹانے کا قانونی راستہ فراہم کرتی ہے۔
اسکائی نیوز (Sky News) کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے ناروے کو لکھے گئے خط میں گرین لینڈ کی خریداری کی خواہش کا اعادہ کیا ہے، جسے ماہرین نے سفارتی آداب کے منافی قرار دیا ہے۔
فنانشل ٹائمز (FT) کے مطابق، اس خط نے نہ صرف نارڈک ممالک بلکہ خود امریکہ کے اندر بھی تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں کچھ قانون سازوں کا خیال ہے کہ صدر کا یہ غیر متوقع رویہ 25ویں ترمیم (25th Amendment) کے نفاذ کی بنیاد بن سکتا ہے۔
بی بی سی (BBC) کے مطابق، وائٹ ہاؤس کے قریبی حلقوں میں اس بات پر خاموش مشاورت جاری ہے کہ آیا صدر کے حالیہ اقدامات ان کے عہدے کے لیے موزوں ہونے پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔
اسکائی نیوز (Sky News) نے اس خط کا مکمل متن اور حقائق پر مبنی جائزہ (Fact-check) شائع کیا ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ خط میں کئی جغرافیائی اور سیاسی غلطیاں موجود ہیں۔
فنانشل ٹائمز (FT) کی رپورٹ کے مطابق، سرمایہ کاروں اور عالمی منڈیوں میں بھی اس بے یقینی کی وجہ سے اضطراب پایا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 25ویں ترمیم (25th Amendment) کا استعمال ایک پیچیدہ عمل ہے جس کے لیے نائب صدر اور کابینہ کی اکثریت کی حمایت درکار ہوتی ہے، لیکن ٹرمپ کے اس "ایکسٹرا آرڈینری" خط نے مخالفین کو ایک نیا ہتھیار فراہم کر دیا ہے۔
بی بی سی (BBC) کی رپورٹ کے مطابق، ناروے کی حکومت نے اس خط پر حیرت کا اظہار کیا ہے لیکن تاحال کوئی سخت باضابطہ جواب نہیں دیا۔
اسکائی نیوز (Sky News) کے مطابق، واشنگٹن میں ڈیموکریٹس نے مطالبہ کیا ہے کہ صدر کے ذہنی معائنے کے لیے 25ویں ترمیم (25th Amendment) کے تحت کارروائی شروع کی جائے۔
فنانشل ٹائمز (FT) کے مطابق، اس طرح کی آئینی بحثیں امریکہ کی عالمی ساکھ کو متاثر کر رہی ہیں، جبکہ ٹرمپ کے حامی اسے ان کی "آؤٹ آف دی باکس" سوچ قرار دے کر دفاع کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کا یہ خط ایک بار پھر امریکہ میں آئینی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اسکائی نیوز (Sky News) کی رپورٹ کے مطابق، یہ خط محض ایک جغرافیائی مطالبہ نہیں بلکہ امریکی صدارت کے مستقبل کے حوالے سے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ 25ویں ترمیم (25th Amendment) کی بازگشت اب صرف ٹی وی ٹاک شوز تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ کانگریس کے کوریڈورز میں بھی سنائی دے رہی ہے۔ بی بی سی (BBC) کے مطابق، آنے والے دن یہ واضح کریں گے کہ آیا یہ خط ٹرمپ کی ایک اور سیاسی چال ہے یا ان کی صدارت کے خاتمے کی شروعات۔

