امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے ایک نئے اور غیر روایتی اقدام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ بی بی سی (BBC) اور الجزیرہ (Al Jazeera) کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، سعودی عرب اور قطر سمیت آٹھ اہم ممالک ٹرمپ کے 'بورڈ آف پیس' (Board of Peace) میں شامل ہونے کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔ اس نئی سفارتی پیش رفت نے خطے کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے، جہاں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو (Benjamin Netanyahu) کے کردار اور ان کے ردِعمل پر پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔
الجزیرہ (Al Jazeera) کی رپورٹ کے مطابق، اس بورڈ کا مقصد غزہ اور لبنان میں جاری کشیدگی کو ختم کرنا اور خطے میں پائیدار استحکام لانا ہے۔ تاہم، مبصرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ بنیامین نیتن یاہو (Benjamin Netanyahu) کی حکومت اس نئی علاقائی صف بندی کو کس حد تک قبول کرتی ہے۔ بی بی سی (BBC) کے مطابق، وائٹ ہاؤس اس بورڈ کے ذریعے اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو ایک نئے نہج پر لانا چاہتا ہے، جس میں قطر کا ثالث کے طور پر کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہو گا۔
الجزیرہ (Al Jazeera) کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب کی شمولیت اس بورڈ کو ایک خاص وزن فراہم کرتی ہے، کیونکہ ریاض نے ہمیشہ فلسطین کے مسئلے کے منصفانہ حل پر زور دیا ہے۔ دوسری جانب، بنیامین نیتن یاہو (Benjamin Netanyahu) کو اسرائیل کے اندر سخت گیر سیاسی حلیفوں کے دباؤ کا سامنا ہے، جو کسی بھی قسم کے بڑے سمجھوتے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ بی بی سی (BBC) کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ بورڈ روایتی سفارت کاری سے ہٹ کر براہِ راست نتائج حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بی بی سی (BBC) کی رپورٹ کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک اس اقدام کو محتاط امید کے ساتھ دیکھ رہے ہیں، لیکن ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے اس پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ الجزیرہ (Al Jazeera) کے مطابق، بنیامین نیتن یاہو (Benjamin Netanyahu) کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے اسرائیل کے تزویراتی مفادات کا تحفظ کیسے کرتے ہیں۔ اس بورڈ کی تشکیل سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ٹرمپ اپنے دوسرے دورِ صدارت میں مشرقِ وسطیٰ کو اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیح اول قرار دے چکے ہیں۔
'بورڈ آف پیس' کی تشکیل مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک بڑا موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ الجزیرہ (Al Jazeera) کی رپورٹ کے مطابق، قطر اور سعودی عرب کا ایک ساتھ آنا ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ تاہم، دنیا اب یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ بنیامین نیتن یاہو (Benjamin Netanyahu) اس میز پر کس طرح بیٹھتے ہیں اور کیا وہ طویل مدتی امن کے لیے مشکل فیصلے کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بی بی سی (BBC) کے مطابق، آنے والے چند ہفتے اس بورڈ کی تاثیر اور خطے کے مستقبل کا تعین کریں گے۔

