Trump Administration Terminates Addiction & Mental Health Grants: SAMHSA Funding Cuts

Trump Administration Terminates Addiction & Mental Health Grants: SAMHSA Funding Cuts

امریکی انتظامیہ کے ایک حالیہ فیصلے نے ملک بھر کے طبی اور سماجی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ این پی آر (NPR)، دی بلورک (The Bulwark) اور اسٹیٹ نیوز (STAT News) کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) کی انتظامیہ نے نشے کی لت (Addiction) اور ذہنی صحت (Mental Health) سے متعلق کروڑوں ڈالر کے وفاقی گرانٹس کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد ان فنڈز کو ٹرمپ انتظامیہ کی نئی ترجیحات کے مطابق ڈھالنا ہے، لیکن ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ اس سے ملک میں جاری منشیات کے بحران اور ذہنی صحت کی سہولیات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

Trump administration cancels millions in federal grants for mental health and addiction services. Explore the impact on SAMHSA programs and health pol

این پی آر (NPR) کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ایک خط میں واضح کیا گیا ہے کہ مادہ کے استعمال اور ذہنی صحت کی خدمات کی انتظامیہ (SAMHSA) کے تحت دیے جانے والے تمام موجودہ گرانٹس کو ختم کیا جا رہا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ یہ قدم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے کہ وفاقی فنڈز انتظامیہ کے سیاسی اور اقتصادی ایجنڈے کے ساتھ مکمل ہم آہنگی (Alignment) میں ہوں۔ اسٹیٹ نیوز (STAT News) کے مطابق، ان گرانٹس کی منسوخی سے وہ پروگرام براہِ راست متاثر ہوں گے جو اوپیئڈ (Opioid) کی وبا سے لڑنے اور خودکشی کی روک تھام کے لیے نچلی سطح پر کام کر رہے ہیں۔


دی بلورک (The Bulwark) نے اس فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے "عوامی صحت پر ایک اور حملہ" قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، انتظامیہ ان فنڈز کو صحت کے شعبے سے نکال کر سرحدی سیکیورٹی یا دیگر دفاعی منصوبوں میں منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ذہنی صحت کے بحران کے دوران اس طرح کی کٹوتیاں سنگین نتائج کی حامل ہو سکتی ہیں۔ اسٹیٹ نیوز (STAT News) نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بہت سے طبی مراکز جو ان گرانٹس پر انحصار کرتے تھے، اب بند ہونے کے دہانے پر ہیں، جس سے ہزاروں مریضوں کا علاج معطلی کا شکار ہو جائے گا۔


این پی آر (NPR) کے مطابق، وائٹ ہاؤس کے حکام کا موقف ہے کہ سابقہ انتظامیہ کے دور میں جاری کیے گئے گرانٹس غیر موثر تھے اور ان میں شفافیت کی کمی تھی۔ تاہم، صحت کے شعبے کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ فنڈز کی اچانک بندش سے پیدا ہونے والا خلا پورا کرنا ناممکن ہوگا۔ دی بلورک (The Bulwark) کے مطابق، یہ فیصلہ خاص طور پر ان دیہی علاقوں کو زیادہ متاثر کرے گا جہاں پہلے ہی ذہنی صحت کے ماہرین کی کمی ہے اور منشیات کے استعمال کی شرح زیادہ ہے۔ اسٹیٹ نیوز (STAT News) کا ماننا ہے کہ یہ پالیسی تبدیلی آنے والے مہینوں میں عدالتوں میں چیلنج کی جا سکتی ہے۔


ٹرمپ انتظامیہ کا یہ اقدام امریکی ہیلتھ کیئر سسٹم میں ایک بڑے زلزلے کی حیثیت رکھتا ہے۔ این پی آر (NPR) کی رپورٹ کے مطابق، طبی تنظیمیں اس وقت متحد ہو کر انتظامیہ سے اس فیصلے پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ دی بلورک (The Bulwark) کے مطابق، یہ کٹوتیاں ظاہر کرتی ہیں کہ نئی انتظامیہ عوامی صحت کے مقابلے میں اپنے سیاسی اہداف کو ترجیح دے رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان فنڈز کی منسوخی کے بعد منشیات اور ذہنی صحت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وفاقی سطح پر کیا متبادل منصوبہ پیش کیا جاتا ہے۔